سیالکوٹ میں سری لنکن مینجرکاقتل،پہلےملزم کوسزاسنادی گئی

ملزم کوایک سال قید،10 ہزار روپے کا جرمانے
Jan 21, 2022
[caption id="attachment_2455268" align="alignleft" width="800"] فائل فوٹو[/caption]

گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پریانتھا کمارا قتل کیس کے پہلے ملزم کو سزا سنا دی، ملزم نے قتل کو درست قرار دے کر سوشل میڈیا پر مہم چلائی تھی۔

سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہونے والے سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کے قتل میں ملزمان کی حمایت کرنے والے شخص کو جمعہ 21 جنوری کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ سزا گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنائی۔

اے ٹی سی کی جانب سے ملزم عدنان کو ایک سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

واضح رہے کہ ملزم عدنان نے پریانتھا کمارا قتل کیس کے ملزمان کی حمایت پر ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جس کا مقدمہ تھانہ رنگپورہ میں سب انسپکٹر مبارک علی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے مقدمہ قتل کی پولیس کی جانب سے تفتیش مکمل کرلی گئی ہے، جب کہ 7 مرکزی ملزمان کے حتمی کردار کا تعین بھی کر لیا گیا ہے۔

گوجرانوالہ پولیس کے مطابق ملزم عمران اور حمیر نے پریانتھا پر قینچی سے وار کیے، حملے میں استعمال ہونے والی دونوں قینچیاں برآمد ہو گئی ہیں، ملزم حافظ تیمور نے اینٹ کا بنا بلاک پریانتھا پر مارا تھا اور ملزم علی اصغر نے لاش کو آگ لگائی۔

پولیس کی جانب سے اپنی تفتیش میں مزید کہا گیا کہ آگ لگانے کیلئے جو لائٹر استعمال ہوا وہ بھی برآمد ہوگیا ہے ، ملزم شہریار اور بلال نے بیرونی دروازہ توڑ کر ہجوم کو اندر بلایا ، ملزم عبد الصبور بٹ نے فیکٹری ورکرز کو حملے کیلئے اکسایا تھا جب کہ ساتوں ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے زیر دفعہ 164 کے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کروائے ہیں،7 ملزمان سے تفتیش مکمل ہونے پر انھیں گوجرانوالہ جیل میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ پریانتھا کیس کے 7 ملزمان کو اسپیشل سیل میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پریانتھا کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں گزشتہ سال 3 دسمبر بروز جمعے کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ الزامات جھوٹ پر مبنی تھے اور اس مقدمے میں اب تک سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

واقعہ پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر ظلم کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ ’پوری قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ سیالکوٹ جیسے واقعات نہیں دہرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں بزنس کمیونٹی نے پریانتھا کے خاندان کے لیے ایک لاکھ امریکی ڈالر جمع کیے ہیں جبکہ ان کے خاندان کو باقاعدگی سے ان کی تنخواہ دی جائے گی۔

واقعہ پر مقتول پریا نتھا دیاودھنہ کی اہلیہ نیروشی دسانیاکے کا کہنا ہے کہ 'میرے شوہر ایک معصوم انسان تھے۔ میں نے خبروں میں دیکھا کہ انھیں بیرون ملک اتنا کام کرنے کے بعد اب بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ تعلیم کے اعتبار سے پریا نتھا دیاودھنہ ایک انجینیئر تھے۔ ان کے بیٹوں کی عمریں 14 اور نو سال ہیں۔

Tabool ads will show in this div