لاہور: انار کلی دھماکے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے

حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/LHR-ANARKALI-BLAST-SUSPECTS-New-21-01.mp4"][/video]

نیو انار کلی بازار حملے میں نئی پیش رفت سامنے آگئی ہے، پولیس نے 3 مشتبہ افراد کی نشاندہی کرلی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق مشتبہ افراد کا ریکارڈ حاصل کر کے کردار کا تعین ہوگا۔ تفتیش مکمل ہونے تک کسی کو حتمی ملزم قرار نہیں دے سکتے۔ مشتبہ افراد دھماکے سے قبل جائے وقوعہ کے اردگرد دیکھے گئے۔

تمام افراد کے چہروں کی شناخت کيلئے نادرا سے رابطہ کیا گیا۔ تینوں مشتبہ افراد کی نشاندہی سی سی ٹی وی سے کی گئی ہے۔

مقدمہ درج

دوسری جانب انارکلی بازار دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق انار کلی دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں انسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ درج کی گئی ایف آئی آر میں دہشت گردی، ایکسپلوزوایکٹ سمیت 302 اور 324 کی دفعات لگائی گئی ہیں، متن کے مطابق تین دہشت گرد بارودی مواد رکھنے کیلئے موٹر سائیکل پر آئے۔

فرانزک اور سی ٹی ڈی ٹیموں نے دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھا کرلیے ہیں جب کہ دھماکے کے بعد انارکلی اور ملحقہ علاقوں میں دکانیں کاروبار بند ہے۔ تفتیشی ٹیموں کو جائے وقوعہ سے بال بیرنگ مل گئے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں ڈیڑھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزمان کا کھوج لگایا جا رہا ہے اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

جائے وقوعہ پر تباہ شدہ 5 موٹر سائیکلیں اور ایک سائیکل موجود ہے اور دھماکے کے اطراف میں موجود دکانیں سیل کر دی گئی ہیں جب کہ جائے وقوعہ کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ بارودی مواد کے پھٹنے سے تقریباً ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔

دوسری جانب میو اسپال انتظامیہ کا بتانا ہےکہ دھماکے کے 12 زخمیوں کو طبی امداد دے کر فارغ کردیا گیا ہے اور اب 13 زخمی زیر علاج ہیں جب کہ ہلاکتوں کی تعداد تین ہے۔

دہشتگردی کا مزید خطرہ

وزیر داخلہ شیخ رشید کا دھماکے سے متعلق کہنا تھا کہ چار شہروں سے متعلق تھریٹ موجود تھے، پاکستان میں دوبارہ دہشت گردی کی فضا پیدا کی جارہی ہے، امن دشمنوں کے عزائم کامیاب نہیں ہونےدیں گے۔

پنجاب اسمبلی

انارکلی بم دھماکے کی مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی، مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان انارکلی بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے،جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یاب کےلیے دعا گو ہیں۔ ملک دشمن عناصر پھر سے سر اٹھانا شروع ہوگئے ہیں۔

نئی دہشت گرد تنظیم

دھماکے کے کچھ دیر بعد ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے نیو انار کلی بازار دھماکے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

لوہاری چوک پر ہونے والے دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے والی بلوچ شدت پسند تنظیم، بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) حال ہی میں وجود میں آئی تھی اور یہ تنظیم کی دوسری کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل یہتنظیم 19 جنوری کو بلوچستان کے علاقے کوہلو میں سیکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکی ہے جس کی آزادانہ زرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

رواں ماہ بھی بلوچستان کی دو اہم علیحدگی پسند تنظیموں بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کی یورپ میں مقیم قیادت اور بلوچستان میں فعال مزاحمت کاروں کے مابین اختلافات سامنے آئے تھے۔

ان اختلافات کے باعث ’بلوچ نیشنلسٹ آرمی‘ نامی ایک نئی تنظیم ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے اپنے قیام کے 10 روز بعد ہی لاہور کے لوہاری چوک میں بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر کے اپنی کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

'بی این اے' کے ترجمان مرید بلوچ نے ٹوئٹر پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حملے کا نشانہ نجی بینک کے ملازمین تھے۔

بلوچ نیشنلسٹ آرمی کا قیام

رواں ماہ 11 جنوری کو دو بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر پی) اوریونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کے ترجمانوں کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں ایک نئی علیحدگی پسند تنظیم 'بی این اے' کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق دو گروہوں کی کمانڈ کونسلز کی ایک میٹنگ بلوچستان میں ہوئی جہاں ’بلوچ قومی سیاسی اور مزاحمتی جنگ پر مفصل اور سیر حاصل بحث کی گئی۔

دونوں تنظیموں نے مزاحمت کو آگے بڑھانے کے لیے 'بی آر اے' اور 'یو بی اے' کو تحلیل کر کے 'بی این اے' کے نام سے قومی مزاحمتی جنگ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ نئے تشکیل کردہ گروپ کے ذرائع ابلاغ میں ترجمان صرف مرید بلوچ ہوں گے جب کہ تنظیم کے آفیشل چینل کا نام “باسک” ہو گا۔

اعلامیے میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا کہ نئی تشکیل کردہ تنظیم بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نامی مشترکہ محاذ کا حصہ ہو گی جو پاکستان میں چین کے مفادات کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

(براس) محاذ جولائی 2020 میں بلوچ قوم پرست رہنما اللہ نذر بلوچ کی بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) بشیر زیب کی بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) گلزار امام کی بلوچ ری پبلکن آرمی اور بختیار ڈومکی کی بلوچ ری پبلکن گارڈز نامی چار تنظیموں نے تشکیل دیا تھا۔

بعد ازاں اس میں سندھ کی ایک عسکریت پسند تنظیم سندھو دیش ریوولوشنری آرمی بھی شامل ہو گئی تھی۔

نئی تنظیم وجود میں کیوں آئی؟

'بی آر پی' اور 'یو بی اے' کے ساتھ ساتھ حربیار مری کی بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اس وقت دھڑے بندی کا شکار ہے۔

بلوچستان میں فعال دو اہم علیحدگی پسند تنظیموں 'بی آر پی' اور 'یو بی اے' کی یورپ میں مقیم قیادت سے اختلافات کی بنیاد پر دونوں تنظیموں کے مقامی کمانڈرز نے 'بی این اے' نامی نئے گروہ کے قیام کا اعلان کیا۔

بی آر پی کی سربراہی معروف بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی کر رہے ہیں جو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نامی زیرِ زمین تنظیم کی بھی قیادت کر رہے ہیں۔ جب کہ 'یو بی اے' کی قیادت سینئر بلوچ سیاسی رہنما خیربخش مری کے بیٹے مہران مری کے پاس ہے۔

براہمداغ بگٹی اور مہران مری دونوں یورپ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ 'بی آر پی' اور 'یو بی اے' میں کئی برسوں سے یورپ میں مقیم قیادت اور بلوچستان میں سرگرم مزاحمت کاروں کے مابین اختلافات کی نوعیت سنگین ہونے کی وجہ سے 'بی این اے' وجود میں آئی۔

اس کی اہم وجہ یورپ میں مقیم ان تینوں تنظیموں کی قیادت اور صوبے میں موجود کمانڈروں اور مزاحمت کاروں کے مابین اعتماد کا فقدان ہے اور 'بی این اے' بھی حال ہی میں اسی عدم اعتماد کے سبب وجود میں آئی ہے۔

براہمداغ بگٹی کی 'بی آر پی' کے دھڑے کی قیادت سابق طالبِ علم رہنما گلزار امام سنبھال چکے ہیں جب کہ مہران مری کی تنظیم کے دھڑے کی قیادت سرفراز بنگلزئی کے پاس ہے۔ اسی طرح حربیار مری کی بی ایل اے کی بلوچستان میں قیادت بشیر زیب کے پاس موجود ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بشیر زیب نے بی ایل اے کے دھڑے کی سربراہی دسمبر 2018 میں افغانستان کے شہر قندھار میں خود کش حملے میں کمانڈر اسلم بلوچ عرف اچھو کی ہلاکت کے بعد سنبھالی ہے۔

تین علیحدگی پسند گروہوں کے سربراہان کا سرداروں کے خاندان سے تعلق ہونے کی بنا پر یہ اختلافات مزید سنگین ہوئے ہیں جب کہ بلوچستان میں ان تنظیموں کی قیادت سنبھالنے والے مڈل اور لوئرمڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں یورپ میں براہمداغ بگٹی اور مہران مری کے خلاف کیسز ہونے کی وجہ سے دونوں رہنما لو پروفائل زندگی بسر کر رہے ہیں۔

عسکری تنظیموں میں سب سے با اثر اللہ نذر بلوچ کی ’بلوچ لبریشن فرنٹ‘ (بی ایل ایف) ہے جو بلوچستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ سرداری نظام کے بھی خلاف ہے۔ یہ تنظیم ابھی تک کسی بھی دھڑے بندی کا شکار نہیں ہوئی ہے۔

حربیار مری اور بشیر زیب کی قیادت میں فعال 'بی ایل اے' کے دو دھڑے، مہران مری کی 'یو بی اے'، براہمدغ بگٹی کی 'بی آر پی' اور جاوید مینگل کی لشکرِ بلوچستان صوبے کی دیگر فعال عسکری تنظیموں میں شامل ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن بختیار ڈومکی کی بلوچ ری پبلکن گارڈز (بی آر جی) کچھ برس میں ایک نمایاں عسکریت پسند تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے۔

بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں فعال طلبہ تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او آزاد) کو بھی حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے۔ اس پر بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو افرادی قوت فراہم کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

اللہ نذر بلوچ، بشیر زیب اور گلزار امام زمانۂ طالب علمی میں بی ایس او (آزاد) کے رہنما رہ چکے ہیں۔

Tabool ads will show in this div