لاہوردھماکے میں ملوث دہشت گردتنظیم کب کہاں اور کس نےبنائی؟

حکام کے مطابق دھماکے میں 2افراد جاں بحق جبکہ 26 زخمی ہیں
Security officials inspect the site of a bomb blast that killed two people and wounded 22 others at a busy shopping district in Lahore on January 20, 2022. (Photo by Arif ALI / AFP)
Security officials inspect the site of a bomb blast that killed two people and wounded 22 others at a busy shopping district in Lahore on January 20, 2022. (Photo by Arif ALI / AFP)

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر محمد عابد خان کا کہنا ہے کہ نیو انارکلی مارکیٹ میں آج ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ دھماکا بارودی ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا ہے۔

دھماکے کے چند گھنٹے بعد ٹویٹر پر مرید بلوچ نامی ایک شخص نے ٹویٹ کیا کہ لاہور کے نیو انارکلی دھماکے کی ذمہ داری بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) نے قبول کر لی ہے جو گردی میں ملوث تنظیموں میں بظاہر ایک نیا نام ہے۔

سندھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ٹرانس نیشنل ٹیررسٹ انٹیلی جنس گروپ (ٹی ٹی آئی جی) کے سربراہ راجہ عمر خطاب نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ بی این اے بلوچ ریپبلکن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے انضمام کے بعد بننے والا ایک نیا دہشت گرد گروپ ہے۔

راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ بی این اے نامی دہشت گرد گروپ نے نیو انارکلی مارکیٹ میں دھماکہ کیا ہے تو وہ بھی حیران ہوگئے تاہم تحقیق چلا کہ بی این اے ایک نیا دہشت گرد گروپ ہے جسے 11 جنوری 2022 کو تشکیل دیا گیا ہے۔

لاہور دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار، مقدمہ درج

انہوں نے کہا کہ لاہور دھماکا دو دنوں میں اس نئے گروپ کا دوسرا دہشت گردانہ حملہ تھا، اس سے قبل اس گروپ سے وابستہ دہشتگردوں نے 19 جنوری کو بلوچستان کے علاقے کیچ میں سیکیورٹی فورس کے قافلے پر حملہ کیا تھا۔

راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ کیچ حملے میں بھی دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس سے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان دونوں واقعات کے تحقیقات سے اس نئے گروہ کا پتہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہیں کہ اس نئے دہشت گرد سیٹ اپ کی سربراہی کون کر رہا ہے لیکن مرید بلوچ نامی ایک شخص نے خود کو اس دہشت گرد گروہ کا ترجمان بتایا ہے۔

دہشت گردوں کے کارروائیوں پر نظر رکھںے والے ماہرین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ایک نیا ضم ہونے والا دہشت گرد گروپ دو دن میں دو حملے کیسے کر سکتا ہے جبکہ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ یہ گروپ مستقبل میں بھی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ نئے تنظیم میں ضم ہونے والے دو دہشت گروپوں میں سے بلوچ ریپبلکن آرمی کے سربراہ براہمداغ بگٹی ہے مذکورہ تنظیم کی بنیاد 2006 میں رکھی گئی تھی جسے حکومت پاکستان نے 2010 میں کالعدم تنظیموں کے فہرست میں شامل کرلیا تھا۔

نئے دہشت تنظیم میں شامل دوسری گروپ یونائیٹڈ بلوچ آرمی کا سربراہ مہران مری ہیں جو بلوچستان لبریشن آرمی کے سربراہ حیربیار مری کے بھائی ہیں۔ مہران مری کا تعلق ابتدا میں بی ایل اے سے ہی تھا لیکن بعد میں اپنے بھائی سے اختلافات کے باعث ایک اور دھڑا بنا لیا۔ پاکستانی حکومت نے 15 مارچ 2013 کو اس گروپ پر پابندی عائد کی تھی۔

راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ اس وقت بلوچ علیحدگی پسند گروپ اپنی موجودگی کا احساس دلانے یا اپنے مقصد کو فروغ دینے کے لیے اپنی کارروائیوں کو بلوچستان سے باہر بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div