پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈرڈاکٹرسارہ گل سے ملیے

سارہ گل کامقصدقومی ایوارڈحاصل کرنا ہے
Jan 20, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Dr-Sarah-Gill-NAYA-DIN.mp4"][/video]

سوشل میڈیا پرپاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈرڈاکٹرکے چرچے ہیں جو یقینناًاپنی کمیونٹی میں امید کی شمع روشن کرنے والی آخری نہیں ہوں گی۔

کراچی کے جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے والی 23 سالہ سارہ گل نے پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈرڈاکٹرہونے کا اعزازحاصل کیا ہے۔

سماء کے پروگرام 'نیادن' میں شریک سارہ کا کہنا تھا کہ میری کمیونٹی میری کامیابی کا جشن منارہی ہے اور وہ بہت زیادہ خوش ہیں کیونکہ یہ صرف میری نہیں بلکہ پوری ٹرانس کمیونٹی کی کامیابی ہے۔

زبردست ردعمل کا اظہارکرنے والی سارہ نے مزید کہا کہ،' پاکستان میں بے نظیر اور ملالہ جیسی بہت سی متاثر کن خواتین کےحوالے کے ساتھ میری تعریف کی گئی '۔

سارہ کے مطابق، 'جب میں آج حتمی نتیجہ اور اپنے آپ کو معاشرے اور خاندان میں عزت کی نگاہ سےدیکھا جانا محسوس کرتی ہوں تو یہ زبردست ہوتاہے '۔

پی اے ایف اسکول سے ابتدائی تعلیم کے بعد بحریہ کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے والی سارہ ٹرانس جینڈرز کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او سے وابستہ رہی ہیں۔

پاکستان میں ایک ٹرانس جینڈرکے لیے علاج معالجے کی سہولیات میں کمی سارہ کے لیے صحت کے شعبے میں اپنی تعلیم آگے بڑھانے کے لیے ایک 'ویک اپ کال' تھی۔

انہوں نے پشاورمیں ایک علیشانامی ٹرانس جینڈرکے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علیشا کی موت اس لیے ہوئی کیونکہ حکام فیصلہ نہیں کرپارہے تھے کہ اسے کس وارڈ میں داخل کیا جائے۔

سارہ نے کہا کہ، 'حالانکہ وہ مریضہ تھی، آپ کی ذمہ داری اس کا علاج کرنا تھی لیکن آپ نے اسے چھوڑ دیا، گر آپ تسلیم نہیں کرسکتے تو کم ازکم اس کاعلاج تو کرسکتے تھے ۔"

سارہ کاکہنا تھا کہ، 'ہرجگہ کی طرح ہماری برادری میں بھی نسل درنسل تبدیلی آئی ہے،وہ کچھ کرنا چاہتے تھے اوراس حوالے سے پرجوش ہیں، وہ ڈانس کے فنکشنز سے مطمئن ہیں لیکن اپنی کمائی کو یا تو تعلیم یا اپنے مقاصد کے حصول لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں '۔

انہوں نے کہا کہ،ٹرانس کمیونٹی کے لیے تحریک کا آغازکیے ہوئے 10 سال ہو چکے ہیں، کمیونٹی نے تبدیلی کو قبول کیا ہے اور نوجوان ٹرانس جینڈرز کو وہ کرنے دیا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔

سارہ گل نے ٹرانس کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کا عزم کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ آخری ٹرانس جینڈرڈاکٹر نہیں ہوں گی بلکہ کمیونٹی میں اور بھی بہت سارہ ہوں گی'۔

اپنی کامیابی کے حوالے سے بات کرنے والی سارہ کا مزید کہنا تھاکہ،' یہ وہ رجحان ہے جو ابھی شروع ہوا ہے اور میں نے اب اپنا ہدف قومی ایوارڈ کے لیے مقرر کیا ہے '۔

Tabool ads will show in this div