سائبر کرائم کورٹ:نوجوان خاتون کو توہین مذہب پر سزائے موت

عدالت نے گزشتہ روز بدھ کو محفوظ کیاگیا فیصلہ سنایا

Developing-Story-urduراولپنڈی میں انسدادِ سائبر کرائم کی عدالت نے مسلمان خاتون کو واٹس ایپ کے ذریعے گستاخانہ مواد بھیجنے کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی ہے۔

انسدادِ سائبر کرائم عدالت راولپنڈی کے جج نے اس سلسلہ میں گزشتہ روز محفوظ کیا فیصلہ سنایا۔

خاتون کے خلاف محمد حسنات فاروق کی مدعیت میں 13 مئی 2020 کو توہینِ مذہب اور انسدادِ سائبر کرائم ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ راول پنڈی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے فوری بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مدعی کی جانب سے مذکورہ مقدمے کی پیروی راجہ عمران خلیل ایڈووکیٹ نے کی۔

سیشن عدالت کی جانب سے جاری سمری کے مطابق 26 سالہ خاتون کو مئی 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر گستاخانہ مواد کو سوشل میڈیا ایپ واٹس ایپ اسٹیٹس کے طور پر پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ جب ایک دوست نے انہیں واٹس ایپ اسٹیٹس تبدیل کرنے کی تاکید کی تو انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے انہیں بھی وہ مواد بھیج دیا تھا۔ عدالت نے خاتون کو سزائے موت کا حکم دینے کے علاوہ 20 سال قید اور 2لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ مجرمہ کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے درج کیا تھا اور اس میں توہین رسالت، توہین مذہب اور انسداد سائبر کرائم ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی تھیں۔ ایڈیشنل سیشن جج راول پنڈی نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت خاتون کو سزائے موت اور 50ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ مقدمے میں شامل دفعہ 295-اے میں 10 سال اور 298 اے میں 3سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جب کہ عدالت نے سائبر کرائم ایکٹ کی دفعہ 11 میں 7 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔

تاہم خاتون نے عدالت میں دیئے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئیں اور ایک مسلمان خاندان میں شادی ہوئی۔ وہ توہینِ مذہب کا سوچ بھی نہیں سکتیں البتہ اگر ان سے دانستہ یا کسی کے اکسانے پر کوئی توہین ہوئی ہے تو وہ خدا سے معافی کی طلب گار ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمہ نے دوران مقدمہ اپنے دفاع میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مطابق پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں 80 سے زائد افراد کو جیل بھیجا جا چکا ہے جن میں سے نصف عمر قید یا سزائے موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان میں سے اکثر معاملات میں مسلمانوں نے دوسرے مسلمان فرد پر توہین مذہب کا الزام لگایا لیکن انسانی حقوق کارکنوں کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ مذہبی اقلیتیں خصوصاً عیسائی اکثر ان الزامات کے عذاب میں پھنس جاتے ہیں حالانکہ ان پر یہ الزامات ذاتی رنجش کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں سیالکوٹ میں کام کرنے والے سری لنکن فیکٹری مینیجر کو توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے کے بعد مشتعل اور پرتشدد ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد جلا کر زندہ مار دیا تھا۔

Tabool ads will show in this div