لاہور ہائیکورٹ کا مری میں ہوٹلوں کی درجہ بندی کا حکم

انتظاميہ وی آئی پی پروٹوکول ميں لگی رہتی ہے،درخواست

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں سانحہ مری سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ حکام کو سہولیات کے مطابق ہوٹلوں کی درجہ بندی کا حکم دیدیا۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا موسم سرما میں مری کے لیے کوئی ایس او پیز نہیں؟ تین سال میں مری کے سات اسسٹنٹ کمشنر کیوں تبدیل ہوئے؟ سماعت کے دوران سانحہ کے وقت مری میں برف ہٹانے والی مشینوں کے دس آپریٹرز کا ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے بھی کا انکشاف ہوا ہے۔

درخواستوں کی سماعت جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کی۔ کمشنر، ڈی سی، آرپی او، سی پی او اور اے سی مری عدالت میں پیش، کمشنر راولپنڈی نے بتایا کہ محکمہ موسمیات نے پانچ جنوری کو الرٹ جاری کیا مگرمکینکیل ڈویژن،  سی این ای اور شاہرات پنجاب نے اجلاس نہیں بلایا۔ انہوں نے کہا کہ برف ہٹانے والی مشینوں کے بتیس آپریٹرز ہیں مگر اس روز دس ڈیوٹی سے غائب تھے۔

میڈیا سے گفتگو میں درخواستگزار نے مقامی انتظامیہ کی اصل مصروفیات بھی بتا دیں، سفیان عباسی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ وی آئی پی شخصیات کے پروٹوکول میں لگی رہتی ہے۔ مری کے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں،انکے پاس ایندھن بھی نہیں۔ جاں بحق افراد کے ساتھ مری کے عوام کو بھی ریلیف دیا جائے۔

ڈی سی راولپنڈی نے بتایا کہ ہوٹلوں کو محکمہ سیاحت پنجاب ریگولیٹ کرتا ہے جو مری میں ہے ہی نہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا وجہ ہے مری میں تین سال میں سات اسسٹنٹ کمشنر تبدیل ہوئے کیا وہاں کوئی سیاسی طاقت ور موجود ہے؟عدالت نے مری کے ہوٹلوں کی سہولیات کے مطابق درجہ بندی کا حکم دیتے ہوئے سماعت چھبیس جنوری تک ملتوی کردی۔

Tabool ads will show in this div