کرپٹو وڈیجیٹل کرنسی کاکاروبار کرنیوالی 1600ویب سائٹس بند کرنیکا فیصلہ

ایف آئی اے کا پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو خط

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Crypto-beeper-riaz-ahmed.mp4"][/video]

وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ايف آئی  اے) نے کرپٹو کرنسی اور ڈيجيٹل کرنسی کا کام کرنے والی 1600 کے قريب ويب سائٹس بند کرنے کا فيصلہ کرلیا۔ سائبر کرائم ونگ نے پی ٹی اے کو خط لکھ ديا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کرپٹو اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کا کاروبار کرنیوالی ویب سائٹس کیخلاف کارروائی کا آغاز کردیا، ڈیجیٹل کرنسیوں کا کام کرنیوالی 1600 کے قریب ویب سائٹس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

ایف آئی اے سائبر کرائم نے ڈیجیٹل کرنسیوں کا کام کرنیوالی ویب سائٹس کیخلاف کارروائی کیلئے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو خط لکھ دیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے بلاک چین سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بلاک چین ٹیکنالوجی اپنانے کا منصوبہ بنارہا ہے جو کرپٹو کرنسیز کیلئے بیک بان کے طور پر کام کرے گی۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر بخت قریشی کا کہنا ہے کہ کرپٹوکرنسی منی لانڈرنگ کا بھی ذریعہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انفرادی طور پر کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنیوالوں کی فہرست تیار کی جارہی ہے، ان افراد کو گرفتار کیا جائے گا کیونکہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر پابندی ہے۔

انہوں نے ایسے افراد کیخلاف کارروائی کا بھی عندیہ دیا جو کرپٹو کرنسی کی تشہیری مہم کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد ایف آئی اے کے ریڈار پر ہیں اور ان کیخلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔

شبلی فراز کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کرپٹو کرنسی کو ریگولرائز کرنے پر کام کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت تین یونیورسٹیوں میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی ڈگری متعارف کرانے جارہی ہے، بلاک چین بینکوں کا 8 سے 10 ارب سالانہ بچانے میں مدد دیگی جبکہ یہ الیکشن بھی شفاف بنائے گی۔

کرپٹو کرنسیز پر پابندی

ایف آئی اے کا یہ اقدام اسٹیٹ بینک اف پاکستان اور وفاق کی جانب سے ہر طرز کی کرپٹو کرنسیز کے استعمال پر پابندی کے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مرکزی بینک کی جانب سے پہلی بار کرپٹو کرنسیز سے متعلق واضح مؤقف سامنے آیا، جس میں عدالت سے کہا گیا کہ وہ ناصرف کرپٹو کرنسیز پر پابندی لگائے بلکہ کرپٹو ایکسچینجز پر جرمانے بھی عائد کرے۔

ان ڈیجیٹل کرنسیوں کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کیئے قوانین اور قواعد کی عدم موجودگی میں پاکستان میں کرپٹو کرنسیوں کی تجارت غیر واضح ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے 20 اکتوبر کو وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ وہ کرپٹو کرنسیز کو تین ماہ میں ریگولیٹ کرے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ کرپٹو کرنسیوں کا قانونی اسٹیٹس طے کرنے کیلئے وفاقی سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرے۔

عدالت نے انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ کرپٹو کرنسیوں کے استعمال سے متعلق رپورٹ لے کر آئیں، جس کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں یہ رپورٹ گزشتہ ہفتے جمع کرائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسیاں غیر قانونی ہیں اور انہیں تجارت کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

اس رپورٹ میں گیارہ ممالک بشمول چین اور سعودی عرب کے نام لئے گئے تھے جہاں کرپٹو کرنسیوں کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

رپورٹ میں ایف آئی اے کی جانب سے کرپٹو ایکسچینجز جیسا کہ بائنانس اور اوکٹاایف ایکس کیخلاف تحقیقات اور ان سے سرمایہ کاروں کو خطرات کا حوالہ دیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ کرپٹو کرنسیو کے قانونی اسٹیٹس پر حتمی فیصلے کیلئے یہ رپورٹ خزانہ اور قانون کی وزارتوں کو بھیجی جائے۔

قانون اور خزانہ کی وزارتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا کرپٹو کرنسیوں کے خلاف پابندی آئین کے دائرے میں ہوگی۔ وہ ایک قانونی فریم ورک پر بھی کام کریں گے۔

Tabool ads will show in this div