آئی ایم ایف کا اجلاس 28جنوری کوطلب، اگلی قسط ملنےکے امکانات روشن

چھٹے معاشی جائزے کی منظوری متوقع ہے
[caption id="attachment_1908802" align="alignnone" width="800"]IMF فوٹو: اے ایف پی[/caption]

پاکستان کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس 28 جنوری کو طلب کر لیا گیا جس میں چھٹے معاشی جائزے کی منظوری متوقع ہے جبکہ چھ ارب ڈالر کا قرض پروگرام بحال ہونے سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملنے کے روشن امکانات ہیں۔

چھ ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے پیشگی شرائط پوری ہونے پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو کا اجلاس 28 جنوری کو طلب کر لیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان نے 12 جنوری کی ڈیڈ لائن تک پیشگی شرائط پوری نہ ہونے پر اجلاس ری شیڈول کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ چھ ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام کے تحت چھٹے جائزے کی تکمیل کا جائزہ لے گا جبکہ اس دوران کارکردگی اہداف کی عدم پاسداری اور فنڈز تک رسائی دوبارہ بحال کرنے کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان قرض پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط تقریبا پوری کر چکا ہے اور منی بجٹ کے ذریعے 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لی گئی ہے۔

قومی اسمبلی فنانس ترمیمی ایکٹ 2021 کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل 2021 بھی سینیٹ میں منظوری کے عمل میں ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی میں بھی ماہانہ چار روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف کو ترقیاتی اخرجات میں کٹوتی، ٹیکس اصلاحات اور سرکاری اداروں کی تنظیم نو کی یقین دیہانی بھی کرائی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان 2019 میں طے پانے والے چھ ارب ڈالر کے قرض پروگرام میں سے دو ارب ڈالر پہلے ہی حاصل کر چکا ہے تاہم اپریل 2021 سے پروگرام تعطل کا شکار ہے۔

Tabool ads will show in this div