صارفین کیلئے بجلی 95 پیسے تک مہنگی ہونے کا امکان

حکومت نے نیپرا کو بجلی میں اضافے کی درخواست دیدی
Jan 18, 2022
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/NEPRA.mp4"][/video]

حکومت نے نیپرا کو بجلی 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دیدی ہے جس کے بعد کے الیکٹرک کے علاوہ تمام صارفین کیلئے بجلی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

دستاویز کے مطابق حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 95 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے اور تمام سلیبز کیلئے فی یونٹ بجلی 8 پیسے سے95 پیسے تک مہنگی کرنےکی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت نے 100 یونٹ استعمال تک فی یونٹ 8 پیسے، 101 سے 200 یونٹ تک کے استعمال پر فی یونٹ 18 پیسے، 201 سے 300 یونٹ استعمال پر فی یونٹ 48 پیسے،301 سے700یونٹ تک فی یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے 95پیسے اضافہ کرنے کی سفارش کی ہے۔

بجلی میں اضافے کے فیصلے سے گھریلو صارفین 20 ارب روپے کی سبسڈی سے محروم ہو جائیں گے، جب کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ "کے الیکٹرک" کے لیے نہیں مانگا گیا۔

حکومتی درخواست پر نیپرا سماعت 24 جنوری کو کرے گا۔

واضح رہے وفاقی حکومت نے 15 اکتوبر کو  بجلی کی قیمت میں 1.39 روپے فی یونٹ اضافہ منظور کرتے ہوئے نیپرا سے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے 15 اکتوبر کو  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے یکم نومبر سے بجلی کی قیمت میں 1.39 روپے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر کا  کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے ضرورت سے زیادہ اور مہنگی بجلی پیدا کی، 2013ء میں گردشی قرضہ 185 ارب روپے تھا جو 2018ء میں 150 فیصد اضافے سے  470 ارب تک پہنچ گیا جو 2030ء تک 2500 سے 3000 ارب تک جانے کا خدشہ ہے۔

نیپرا نے حکومت کی درخواست پر  5 نومبر کو سماعت کی اور بجلی کی قیمت میں 1.39 روپے فی یونٹ اضافہ کردیا جس کے بعد بجلی کی قیمت بڑھ کر 15.36 روپے فی یونٹ ہوگئی تھی، بجلی کی قیمت میں اضافے سے حکومت نے 139 ارب روپے کی آمدنی حاصل کی۔