منی بجٹ: ٹیکس میں اضافے کے پیش نظر گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ

جولائی تا دسمبر گاڑیوں کی فروخت میں 71 فیصد اضافہ

منی بجٹ میں بتایا گیا ہےکہ ٹیکس میں اضافے کے پیش نظر گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں نے گاڑیوں کی فروخت میں سب سے بڑی وجہ منی بجٹ کو قرار دیا ہے، ان کے مطابق صارفین نے منی بجٹ میں ٹیکس میں اضافے کے باعث قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے خدشے کے پیش نظرگاڑیوں کی خرید میں اضافہ کردیا۔

پاکستان آٹوموبائل مینوفیکچرزایسوسی ایشن کے مطابق مالی سال 22-2021 کےدوران جولائی تا دسمبر گاڑیوں کی فروخت میں 71 فیصد اضافہ دیکھنےمیں آیا۔

آل پاکستان موٹرڈیلرایسوسی ایشن کے چئیرمین ایچ ایم شہزاد نے سماء کے مارننگ شو نیا دن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی کی خرید صارفین کی قوت خرید میں نہیں ہے، ایک طرف مقامی اسمبلرز مافیا گاڑیوں کی قیمتوں میں بغیرکسی وجہ کے مسلسل اضافہ کررہا ہے، دوسری جانب حکومت نے ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ کردیا ہے۔

ایچ ایم شہزاد نے بڑی کارکمپنیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنیاں اتنے سالوں بعد بھی گاڑیاں پاکستان میں تیار کرنے کی قاصر نہیں ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں گاڑیاں سستی نہیں ہوسکتی جب تک گاڑیاں پاکستان میں بننا شروع نہیں ہوجاتی۔ ایک طرف تو ایکسپورٹر اشیاء برآمد کرکے پاکستان میں ڈالرلارہے ہیں جب کے درآمد کنندہ گاڑیوں کے خام مال مہنگے داموں خرید کر ڈالر ملک سے باہر بھیج رہا ہے۔

Tabool ads will show in this div