شہزادہ ہیری کی برطانوی حکومت کو مقدمے کی دھمکی

سیکیورٹی فراہم کی جائے، برطانوی عدالت سے اپیل

پرنس ہیری نے برطانوی عدالت سے اپیل کی ہے کہ برطانیہ آنے پر انھیں سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

رپورٹ کے مطابق شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی کمی وجہ سے اپنی اہلیہ اور اپنے دونوں بچوں کو برطانیہ میں لانا ان کے اختیار میں نہیں۔

پرنس ہیری کے وکلا کا کہنا ہے کہ برطانوی شہزادہ ہیری حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی سرزمین پر انھیں پولیس تحفظ نہیں ملنا چاہیے، چاہے وہ خود اخراجات برداشت کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے آرچی اور بیٹی لِلی بیٹ کو اپنے آبائی سرزمین لے جانا چاہتے ہیں لیکن ایسا کر نہیں سکتے۔

پرنس ہیری کے وکیل کا کہنا ہے کہ برطانیہ ہیری کا گھر ہے، یہاں آنے پر ان کو بھرپور سیکیورٹی ملنی چاہیے، سیکیورٹی نہ ملنے پر ان کی اہل خانہ کو جان کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

ملکہ الزبتھ کے پوتے ہیری اور ان کی امریکی بیوی میگھن مارکل نے لاس اینجلس میں زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے 2020 میں شاہی فرائض چھوڑ دیے تھے، اس کے بعد سے وہ ایک نجی سیکیورٹی ٹیم پر انحصار کر رہے ہیں۔

تاہم، ان کے قانونی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ سیکیورٹی شہزادے کو وہ تحفظ فراہم نہیں کر سکتی جس کی انھیں برطانیہ کے دورے کے دوران ضرورت ہے۔

ہیری اپنے خاندان کے ساتھ اپنے گھر واپس نہیں جاسکتے کیوں کہ انہیں انتہاء پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا ہے۔

قانونی نمائندوں کے مطابق اس طرح کے تحفظ کی عدم موجودگی میں شہزادہ ہیری اور ان کا خاندان اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے، جولائی 2021 میں جب وہ اپنی والدہ پرنسز ڈیانا کے مجسمے کی رُونمائی کرنے کینسنگٹن پیلس گئے تو پولیس تحفظ کی کمی کی وجہ سے چیریٹی ایونٹ چھوڑتے وقت ان کی سیکیورٹی پر سمجھوتا کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ شہزادہ ہیری گزشتہ دو سالوں میں دو بار برطانیہ جا چکے ہیں، ایک بار مجسمے کی رُونمائی کے سلسلے میں اور دوسری بار اپنے دادا شہزادہ فلپ کی تدفین کے لیے وہ برطانیہ گئے تھے لیکن دونوں بار میگھن اور بچے امریکا میں ہی رکے تھے۔

Tabool ads will show in this div