کرونا وباء: نفسیاتی امراض میں خطرناک حد تک اضافہ

خودکشی کے واقعات بھی بڑھ گئے
Jan 18, 2022

[video width="1280" height="720" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Dr.-Asim-Shah-Interview.mp4"][/video]

کرونا وائرس کی وبا کے بعد نفسیاتی امراض میں 25 سے 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، خاص طور پر خودکشی کرنے کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا اور بدقسمتی سے کئی لوگ اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

کرونا وائرس کے نتیجے میں نوجوان خاص طور پر شادی شدہ خواتین زیادہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں گھریلو جھگڑوں میں بھی اضافہ ہوا، کرونا وائرس کے نتیجے میں لوگوں کے جذبات میں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔

امریکہ کے بیلر کالج آف میڈیسن ہیوسٹن میں شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر عاصم شاہ جو ان دنوں کراچی آئے ہوئے ہیں، انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کرونا وائرس کے نتیجے میں لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے اور معاشی ناہمواریوں کے نتیجے میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے کوئی خاص ڈیٹا موجود نہیں ہے لیکن دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے ڈپریشن، ذہنی تناؤ سمیت نفسیاتی امراض کی شرح 30 فیصد سے زیادہ بڑھی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا کے بعد نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے، کرونا کے نتیجے میں کئی لوگوں کا حافظہ متاثر ہوا ہے، لوگوں میں بھولنے کی بیماری یعنی ڈیمینشیا میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، کرونا وائرس نے ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کو ٹرگر کیا ہے یعنی کسی کو تھوڑی سی بھی بیماری تھی اور وہ خاموش تھی یا کسی کو کوئی بیماری ایک سال بعد ہونی تھی تو کرونا کے نتیجے میں وہ ایک سال پہلے ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوششوں کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگیا، لوگوں نے خودکشی کے نتیجے میں بدقسمتی سے اپنی زندگیاں بھی ختم کیں اور خود کو مارنے کا سوچنے والوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق کرونا وباء کے دوران لوگوں کے معاشی حالات بھی خراب ہوئے ہیں اور گھروں پر رہ کر گھریلو جھگڑوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، اس کے نتیجے میں خودکشی کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر عاصم شاہ کا کہنا تھا کہ خودکشی کے ڈیٹا کیلئے 2 سال کے اعدادوشمار چاہئے ہوتے ہیں، امریکا میں بھی خودکشیوں کا 2019ء تک کا ڈیٹا دستیاب ہوگا۔

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے بھی اس بات کی تائید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں کرونا وباء کے دوران نفسیاتی امراض میں 35 سے 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور نیورو کمپیوٹیشن لیب کے ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے دوران کراچی میں ڈپریشن، گھبراہٹ اور ذہنی تناؤ جیسے امراض میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی میں ذہنی امراض پر کی جانے والی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ 18 سے 29 سال کی خواتین میں مردوں کے مقابلے میں نفسیاتی امراض کی شرح ڈیڑھ گنا زیادہ تھی۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی نیورو کمپیوٹیشن لیب سے وابستہ ابوالحسن نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ 3 ہزار سے زائد مرد و خواتین پر تحقیق کی گئی، جس میں 18 سے 70 سال تک کی عمر کے لوگ شامل تھے، تحقیق کے دوران ان سے مختلف سوالات کئے گئے تھے اور اس ڈیٹا کو ڈیڑھ سال کے عرصے کے دوران جمع کیا گیا تھا۔

نفسیاتی امراض کی وجہ سے دماغ میں ہونیوالی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ان تبدیلیوں کو ٹھیک کرکے دماغی صحت بحال کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ مردوں کے مقابلے میں گھریلو یا شادی شدہ خواتین زیادہ متاثر ہوئی ہیں کیونکہ مردوں کی نوکریوں کے خاتمے، آمدن میں کمی کے نتیجے میں معاشی ناہمواریوں نے انہیں زیادہ متاثر کیا ہے۔

تحقیق کے دوران 100 سے زائد مرد و خواتین کو منتخب کرکے ان کے دماغ کی ای ای جی کے نتیجے میں پتہ چلایا گیا کہ دماغ کا کون سا حصہ زیادہ متاثر ہوا ہے۔

تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ کچھ  لوگوں کے دماغ کے مختلف ریجنز کے آپس کے کنکشن متاثر ہوئے تھے جبکہ دماغ کے کچھ حصے اوور ایکٹو اور کچھ لوگوں کے دماغ میں اضافی کنکشن پائے گئے تھے۔

ابوالحسن نے بتایا کہ اپنی لیب کیلئے ہم نے ایک برین اسٹیومیولیشن مشین خریدی تھی اور ایک ہم نے خود بنالی تھی، جس کے ذریعے دماغ کو کرنٹ دیا جاتا ہے اور یہ  نیورو ری ہیبلیٹیشن کا کام کرتی ہے، اس مشین کے ذریعے ہم یہ چیک کرتے ہیں کہ کتنے نیورولوجیکل افیکٹس مرتب ہوئے ہیں اور کام کی رفتار میں کتنا فرق پڑا ہے، یہ ایک پائلٹ پراجیکٹ تھا، جس کے ہمیں اچھے نتائج ملے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ دماغ کے جن ریجن کا تعلق جذبات یا ایموشنز سے ہوتا ہے وہ 100 فیصد متاثر ہوئے ہیں، ہمارے ساتھ اس پراجیکٹ میں سائیکالوجسٹ اور بیرون ممالک کی جامعات بھی شامل تھیں۔

جناح اسپتال شعبہ نفسیات کے سابق سربراہ پروفیسر اقبال آفریدی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کرونا وائرس کے ایموشنل ایفیکٹس بھی ہوئے ہیں، کرونا وائرس کے نتیجے میں ڈپریشن، خوف، بے چینی، چڑچڑاپن اور بے صبری بڑھ گئی ہے، لوگ معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں گھریلو جھگڑے بڑھے ہیں۔