ریپ کیسز: متاثرہ خاتون کےبیان پرملزمان کوسزا ہوسکتی ہے،لاہور ہائیکورٹ

جنسی جرائم کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے ریپ کیس میں اپیلوں پر فیصلہ میں قرار دیا کہ میڈیکل رپورٹس اور ڈی این اے پازیٹو نہ بھی ہو تو متاثرہ خاتون کے بیان پر ملزمان کو سزا ہوسکتی ہے۔

اسکول کی طالبہ کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز کی زیادتی کیس میں اپیلوں پر جسٹس امجد رفیق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے فیصلے میں تحریر کیا کہ متعدد کیسز میں ڈی این اے کے لیے مواد ناکافی ہوتا ہے جس کے باعث یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جرم نہیں ہوا اسلئے ٹرائل کورٹ متاثرہ لڑکی کے بیان کی روشنی میں سزا سنا سکتی ہے۔

بچی کے ساتھ گارڈز کی زیادتی کا مقدمہ گوجرانولا پولیس نے 2017 میں درج کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے مجرم کامران کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ شریک ملزم برکت علی کو بری کردیا جس کیخلاف ملزمان اور متاثرہ خاندان نے اپیلیں دائر کیں تھی۔

عدالت نے مجرم کامران کی عمر قید اور شریک ملزم کی بریت کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ جاری کردیا۔

Tabool ads will show in this div