بلدیاتی قانون کیخلاف احتجاج، ایم کیوایم پاکستان کادھرنے کااعلان

جی ڈی اے اور پاکستان تحریک انصاف کابھی مشترکہ مظاہرہ
Jan 15, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Amir-Khan-Dharna-Announcment-Sot-15-01.mp4"][/video]

ایم کیو ایم پاکستان نے بھی سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کیخلاف دھرنے کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ ہاؤس یہاں سے دور نہیں، اب تم (پیپلزپارٹی) سے صرف بل واپس نہیں کروانا بلکہ سندھ بھی واپس لینا ہے۔ حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ صرف یہ قانون ہی نہیں سندھ کے حکمرانوں کا منہ بھی کالا ہے، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے۔ عامر خان نے کہا کہ جعلی اکثریت کی بنیاد پر آپ کی من مانیاں نہیں ہونے دیں گے، اس قانون کو واپس کروا کر دم لیں گے، جتنی طاقت استعمال کرلیں یہ قافلہ نہیں رکے گا۔

کراچی پریس کلب پر ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان تحریک انصاف اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کیخلاف بھرپور احتجاج کیا، اس موقع پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی وہاں پہنچی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان نے بھی سندھ بلدیاتی نظام کیخلاف احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ اپنی طاقت سے ہماری ریلیوں کو روکا گیا، جتنی طاقت استعمال کرلیں یہ قافلہ نہیں رکے گا، یہیں بیٹھیں گے، ہم بھی دھرنا دیں گے، اس قانون کو واپس کرواکر دم لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جعلی اکثریت کی بنیاد پر آپ کی من مانیاں نہیں ہونے دیں گے، آدھی زندگی جیلوں میں گزار دی، گرفتاریوں کا خوف نہیں، تمہیں بھاگنے نہیں دیں گے، حکمرانوں نے کہا یہ جاہل اور ان پڑھ ہیں، سندھ میں غاصبوں کا ٹولہ مسلط ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا اب بل واپس نہیں کروانا، سندھ واپس لینا ہے، ابھی جانا نہیں، حکومت کو گھر بھیج کر جانا ہے، یہ شہر پاکستان کا 70 فیصد دیتا ہے، آج سندھ حکومت کو دوسرا نوٹس دینے آئے ہیں، اگلی بار بل واپس نہ ہوا تو انکا گھیراؤ کرکے واپس کروایا جائے گا۔

ایم کیو ایم کنوینر نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس یہاں سے دور نہیں، تم سے بل، وزیراعلیٰ ہاؤس اور سندھ واپس لیں گے، 14 سال سے کراچی میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔

مزید جانیے: پاکستان تحریک انصاف کاپیپلزپارٹی کے جواب میں احتجاجی مارچ کااعلان

وفاقی وزیر علی زیدی

پيپلزپارٹی کے اسلام آباد مارچ کے جواب ميں پاکستان تحریک انصاف نے گھوٹکی سے کراچی مارچ کا اعلان کرديا۔ علی زیدی نے پی پی پی کو جمہوریت کی سب سے بڑی ڈاکو کہہ دیا، وزيراعلیٰ سندھ کو بھی بڑی مافيا کا اکاؤنٹنٹ قرار دیا، 27 جنوری کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر پورا سندھ بند کردیں گے۔

کراچی میں مشترکہ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے اکاؤنٹنٹ مراد علی شاہ ہیں، 14 سال ہوگئے، نہ ان سے کچرا اٹھتا ہے، نہ یہ اسکول چلاسکتے ہیں، ان سے اسپتال نہیں چلتے، آج تک ایمبولینس نہیں دی، ہم نے ان کو صحت کارڈ دینے کا کہا، یہ نہیں دے سکے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب ملکر ان کا تختہ اُلٹ کر رہیں گے، میں زرداری مافیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ چھوٹا سا ٹریلر ہے، آصف زرداری تمہارا وقت پورا ہوچکا ہے۔

خواجہ اظہار الحسن

خواجہ اظہار الحسن کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ آج لاڑکانہ کی یوسی دکھادیں جہاں کوئی سہولت ہو، یہ کہتے ہیں ایم کیو ایم لسانیت کی بات کررہی ہے، يہ چاہتے ہيں یو سی چيئرمين کو ہر ماہ ايک کروڑ روپے ملتے رہيں، وڈيرانہ سوچ کبھی نمائندوں کو بااختيار نہيں کرنا چاہتی۔

ان کا طنزاً کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی کرپشن نہ کرنے کی بات پر میرے آنسو آگئے، ناصر حسین شاہ صاحب! 10 ہزار بسیں کہاں ہیں، ہم اس کالے قانون کیخلاف جدوجہد کرتے رہیں گے۔

حلیم عادل شیخ

پی ٹی آئی رہنماء اور رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ صرف یہ قانون کالا نہیں، سندھ کے حکمرانوں کا منہ بھی کالا ہے، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے، بلاول بھٹو نے کہا شوکت ترین کراچی میں تمہارا گھر دیکھا ہے، ہم نے بھی بلاول ہاؤس دیکھا ہے، سندھ کی گندم کھانے والے چوہوں کو پکڑنے کیلئے پنجرے لگالئے۔

جماعت اسلامی کا دھرنا 16ویں روز میں داخل

دوسری جانب جماعت اسلامی کراچی کا سندھ بلدیاتی نظام کیخلاف دھرنا 16ویں روز میں داخل ہوچکا ہے جبکہ جماعت نے احتجاج کا دائرہ بڑھاتے ہوئے کل (اتوار کو) شہر کے 6 مقامات پر دھرنوں کا اعلان کردیا ہے، شارع فیصل پر مارچ ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعيم الرحمان نے دو ٹوک کہہ ديا کہ سندھ سرکار کو کراچی کے ادارے لينے نہيں ديں گے۔

Tabool ads will show in this div