صدر مملکت نے مالیاتی ضمنی بل 2022ء کی منظوری دیدی

ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ، نئے ٹیکسوں کا اطلاق ہوگیا
Jan 15, 2022

صدر مملکت نے مالیاتی ضمنی بل 2022ء کی منظوری دیدی ہے۔ قومی اسمبلی نے 13 جنوری کو مالیاتی بل کثرت رائے سے پاس کیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مالیاتی ضمنی بل کی منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی، منظوری کے بعد فوری طور پر نئے مالیاتی بل میں تجویز کردہ ٹیکس چھوٹ کے خاتمے، نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور رد و بدل کا اطلاق ہوگیا ہے۔

قومی اسمبلی میں تیرہ جنوری 2021ء کو کثرت رائے سے مالیاتی بل 2022ء کی منظوری دی تھی جبکہ اپوزیشن کی تجاویز کو مسترد کردیا تھا۔

مزید جانیے: قومی اسمبلی نے ضمنی مالیاتی بل2021 کی منظوری دے دی

بیکری آئٹم پر ٹیکس

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم میں چھوٹی دکانوں پر بریڈ، سویوں، نان، چپاتی، شیرمال، بن، رسک 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیئے گئے ہیں البتہ ٹیئرون بیکریز، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز اور مٹھائی کی دکانوں پر اِن اشیاء کی فروخت پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوگا۔

مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے، جن میں موبائل فونز پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کردیا گیا جس سے 7 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

ٹیئرون ریٹیلرز کون ہیں؟

ایک خوردہ فروش جو اسٹورز کی قومی یا بین الاقوامی سلسلہ کی اکائی کے طور پر کام کرتا ہے۔

ایک خوردہ فروش جو ایئر کنڈیشنڈ شاپنگ مال، پلازہ یا مرکز میں کام کرتا ہو اس کے علاوہ خوردہ فروش جس کا بجلی کا مجموعی بل مسلسل پچھلے بارہ مہینوں کے دوران بارہ لاکھ روپے سے زیادہ ہو۔

ایک خوردہ فروش جس کی دکان کا رقبہ ایک ہزار مربع فٹ یا اس سے زیادہ ہے۔

گاڑیوں پر عائد ٹیکس

مقامی طور پر تیارشدہ 1300 سی سی گاڑیوں پر مجوزہ ایکسائز ڈیوٹی آدھی کرکے ڈھائی فیصد کردی گئی ہے۔

مزید برآں 1301 سے 2000 سی سی کی مقامی تیارہ کردہ گاڑیوں پر 10 کے بجائے 5 فیصد اور 2001 سی سی سے زیادہ کی مقامی گاڑیوں پر 10 فیصد ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 1800 سی سی کی مقامی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا، 1801 سے 2500 سی سی کی  ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد اور درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، اس سے پہلے 17 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز تھی۔

فنانس سپلیمنٹری ترمیمی بل 2021 کے مطابق تمام درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بدستور قائم رہے گی۔