میڈیکل کالج کی طالبہ کی مبینہ خودکشی،اہم ملزم گرفتار

ملزم کا سیکنڈ سول جج دادو ایٹ جوہی سے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا
Jan 22, 2022

دادو میں میڈیکل کالج کی طالبہ کے کیس میں مطلوب اہم ملزم فیضان کا 3 روزہ ریمانڈ پولیس نے حاصل کرلیا ہے۔

دادو پولیس کے مطابق مرکزی ملزم شمن سولنگی کا بیٹا فیضان سولنگی جمعہ کو گرفتار کرلیا گیا۔فیضان سولنگی جنسی ہراسانی میں باپ کے ساتھ ملوث تھا۔

ہفتے کو پولیس نے ملزم کا سیکنڈ سول جج دادو ایٹ جوہی سے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ اس کے باقی 2 ملزمان شمن اور امداد سولنگی تاحال مطلوب ہیں۔

امداد سولنگی جھوٹے نکاح  کا گواہ تھا اوردونوں ملزمان 10 روزکے باوجود گرفتارنہ ہوسکے ہیں۔

تھانہ سیتا روڈ کا ایس ایچ اومعطل

طالبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے پر ڈی آئی جی حیدرآباد پیر سید محمد شاہ نے تھانہ سیتا روڈ کے ایس ایچ او کومعطل کردیا تھا۔

پولیس ترجمان نےبتایا کہ ایس ایچ او نے کیس میں غفلت،سست روی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔

ایس ایچ او سیتاروڈ گل بیگ کے خلاف متوفیہ کے ورثا نے شکایت کی تھی۔

لواحقین نے موقف اختیار کیا کہ اگر برقت شکایت کا ازالہ کیا جاتا اور کیس میں ملوث مرکزی ملزم شمن سولنگی گرفتار کرلیا جاتا تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔

 اس کیس میں پولیس نے متوفیہ کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون فرانزک کرانے کیلئے لیبارٹری بھیج دیا۔

نکاح خواں کا بیان

دوسری جانب نکاح نامے پر دستخط کرنے والے نکاح خواں سے پولیس نے ابتدائی تفتیش مکمل کرلی، نکاح خواہ مولوی محمد ادریس کا کہنا تھا کہ مسجد میں تھا جب شمن سولنگی ساتھی سمیت آیا اور نکاح کے کاغذات پر دستخط کرائے اور چلا گیا۔

نکاح خواہ نے مزید بتایا کہ اس وقت لڑکی نہیں تھی، نہ نکاح پڑھایا اور نہ کچھ خبر ہے۔

علاوہ ازیں واقعے سے متعلق لڑکی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ عصمت اور شمن سولنگی کی بیٹی بچپن میں ساتھ پڑھتے تھے، شمن سولنگی نے عصمت کا نمبر اپنی بیٹی سے حاصل کیا تھا۔

کیس کا مرکزی ملزم شمن سولنگی تاحال مفرور ہے، جس کی تلاش کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق ملزم شمن سولنگی ودیگر نے متوفیہ کو بلیک میل کر کے شدید ذہنی دباؤ دیا جس کی وجہ سے عصمت نے خودکشی کی۔

چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 13 جنوری کو ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی دادو کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کئے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا اظہار افسوس کرتے ہوئے ورثاء کی مکمل مدد اور تعاون کا اعلان کیا۔

طالبہ کا والدین کو خط

طالبہ کی مبینہ خودکشی کے بعد ان کی والدہ کو اپنی بیٹی کا تحریر کردہ خط موصول ہوا۔

طالبہ کی جانب سے خودکشی سے پہلے لکھے گئے خط میں والدین سے براہ راست مخاطب ہو کر معافی مانگی گئی، اس میں تحریر ہے کہ آپ دونوں نے میرے لیے بڑھاپے میں بہت محنت کی جس پر آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

 واضع رہے کہ دادو کےعلاقے سیتاروڈ میں پیپلز میڈیکل کالج نوابشاہ میں زیر تعلیم میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ کی لاش برآمد ہوئی تھی جسے گولی لگی ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ نے بلیک میلنگ سے تنگ آ کر خودکشی کی تھی، خودکشی سے 2 روز قبل طالبہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ سیتاروڈ پر 4 ملزمان پر بلیک میلنگ، ہراساں اور دھمکیوں کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم شمن سولنگی نے جعلی نکاح نامہ بنوا کر لڑکی کو بلیک کیا اور وقفے وقفے سے 90 ہزار روپے بھی لئے۔