نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کاجائزہ، اسپيشل ميڈيکل بورڈتشکيل

اسپيشل ميڈيکل بورڈ نوازشريف کی واپسی کے بارے میں رائےبھی دے گا
Jan 14, 2022
[caption id="attachment_2311549" align="alignnone" width="680"]NAWAZ-SHARIF-3-1 فائل فوٹو[/caption]

وفاقی کابینہ کے فیصلے پر پنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کے جائزے کے لئے 9 رکنی اسپيشل ميڈيکل بورڈ تشکيل دے ديا۔

یہ اسپيشل ميڈيکل بورڈ نوازشريف کی واپسی کے بارے میں رائے بھی دے گا۔ سینئر پروفیسرز پر مشتمل اسپیشل میڈیکل بورڈ 5 دن ميں رپورٹ پیش کرےگا۔

بورڈ کے کنونيئر پروفيسر ڈاکٹرمحمد عارف نديم ہونگےجبکہ ديگر ارکان ميں پروفيسر ڈاکٹرغياث النبی طيب، پروفيسرڈاکٹرثاقب سعيد، پروفيسرڈاکٹرشاہدحميد،پروفيسرڈاکٹربلال ايس محی الدين، ڈاکٹرامبرين حامد،ڈاکٹرشفيق الرحمان، ڈاکٹرموناعزيز اورڈاکٹرخديجہ عرفان شامل ہيں۔

واضح رہے کہ ستمبر 2020 میں پنجاب کی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس جعلی نہیں ہیں،میڈیکل بورڈ کوبیوقوف نہیں بنایا گیا اور10 دفعہ اس معاملے پر وضاحت دے چکی ہوں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا  کہ نواز شریف کی تمام میڈیکل رپورٹس تصدیق شدہ تھیں اور تمام سمریاں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئیں۔

میڈیکل رپورٹ کےمطابق نواز شریف دل کے امراض کی وجہ سے انتہائی خطرے میں ہیں اور ان کے دل کو خون کی فراہمی مناسب نہیں ہو رہی ہے۔

میڈیکل رپورٹس کو 4 دسمبر2019 اور 15 دسمبر2019 کو بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔