سیاحت اور ہماری تیاری

اس سانحے نے  انتظامی نااہلی اور انسانیت پرکئی سوال کھڑے کردیے

ملک میں بڑے بڑے سانحات ہوجاتے ہیں جن پر خوب شور مچتا ہے اورالزام تراشیاں ہوتی ہیں لیکن اتنی جانیں جانے کے بعد کوئی ایک استعفیٰ تک نہیں آتا۔

حکومتی بےحسی  پریہاں سے ہی ہماری اخلاقی پستی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔مری میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ٹی وی چینلز نےجب یہ خبر بریک کی اور صورتحال واضع ہوئی تو اموات کا پتہ لگا۔

اس واقعے کی جو فوٹیجز آرہی تھی وہ دل دہلا رہی تھی۔ یہ ٹراسمیشن کرتے وقت خود کو اس جگہ پر رکھا تو آواز نے ساتھ چھوڑ دیا اور کپکپی طاری ہوگئی۔گڑگڑاتی آواز کے ساتھ بڑی ہی مشکل سے اپنا جملہ مکمل کیا کہ یہ لمحہ کس قدر قیامت خیز تھا۔ ہر طرف برف ہی برف اور منفی میں درجہ حرارت کے دوران ایک امید تھی کہ کوئی مدد کو آئے گا۔ وہاں پہنچے افراد نےاس آس کے ساتھ ہی صبح کا انتظار کیا ہوگا۔

کچھ لوگ تو خراب موسم سے ٹکراگئے اور اس موسم کی سختی سے نمٹ گئے لیکن کچھ لوگ اس اندھیری رات میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گم ہوکر سوگئے۔

ہرکسی کوموسم کا پتہ تھا اور سب کچھ بتا دیا گیا تھا لیکن ہماری عادت ہے جب تک سانحے رونما نہ ہوجائے ہم چیزوں کو بہت نارمل لیتے ہیں اور یہاں بھی یہی ہوا۔جانیں چلی گئیں لیکن وہی کمیٹیاں بن گئیں اور جب کمیٹیاں بن جائیں توسمجھیں معاملہ دب گیا۔

سب کو پتہ ہے کہ غفلت کہاں کہاں ہوئی اور کون کون سے محکمے اور لوگ زمہ دار ہیں لیکن ہر معاملے کی کمیٹیاں بنا کر طول دے کر عوام کو دوسروں مسئلوں میں لگا دینا بڑا آسان ہے۔ہم خود بھی ایسے ہی ہیں اور بہت شور کرتے ہیں لیکن پھر بھول جاتے ہیں کہ اصل میں ہم بھی بے حس ہوگئے ہیں،اب ہمیں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اوردودن بعد سب نارمل ہوجاتا ہے۔

پورے پنجاب سے مری کم دوری پر ہے۔ جلدی، کم وقت اور پیٹرول کی بچت کے چکر میں لوگ دوسرے سیاحتی مقام کا رُخ نہیں کرتے۔ مری ایکسپریس وے ٹول پلازہ سے جب حد تجاوز ہوچُکی تھی تو گاڑیوں کو کیوں جانے دیا گیا ؟ سوال یہ بھی ہے کہ جب پتہ تھا کہ شدید برف باری ہوسکتی ہے توعوام کو بھی احتیاط کرنی چاہیے تھی۔کبھی کبھی انسان کو اپنی خواہشات کو مارنا پڑتا ہےاوربچوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ وقت مناسب نہیں۔ اب اگر لوگ وہاں پہنچ ہی گئے تھے تو اتنی عوام کو داخل ہونےدے دیا گیا تھا تو پھر نا اہل انتظامیہ کیوں سوتی رہی اورپیشگی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے؟

نہ یہ لوگوں کو روک پائےاورنہ گنجائش سے زیادہ لوڈ کو مینج کر پائے۔جن مقامات پر شدید دباؤ اور رش تھا اُدھر موسم کی سختی کے سامنے لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑ کر انتظامیہ بھاگ گئی۔ میری فیملی آج سے کوئی 18 سال پہلے مری گئی تھی۔اس وقت صرف ایک سے دو فُٹ برف پڑی اور 15 گھنٹے ٹریفک میں پھنسی رہی۔آج 18 سال بعد بھی ہم وہی کھڑے ہیں اورکچھ نہیں بدلا اور نہ کچھ سیکھ سکے۔

جب یہ سانحہ ہوگیا تو کسی غیرت مند نے ذمہ داری قبول کی اورکیا اپنے اپ کو احتساب کے لیے پیش کیا؟ لوگوں کو مری کے بخار سے نکالنے کے لیے اس شہر کو سیاحت کے لیے بند کریں اور پہلے جدید انفراسٹرکچر، سہولیات، پارکنگ پلازہ، لوڈ مینجمینٹ، ڈزاسٹرمینجمنٹ کو اپ گریڈ کریں۔

اس دوران سیاحوں کو دوسرے سیاحتی مقامات کی طرف رُخ موڑ دیں تاکہ لوگوں کا مری کی طرف سے دھیان ہٹے اور سیاحت کا دباؤ یہاں کم ہو۔ ویسے بھی مری میں کچھ ہوٹل مالکان نے 3 ہزار کا کمرہ بیس سے تیس ہزار روپے وصول کیا،ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔

یہ تو وہ وقت تھا کہ جب آپ ان ہوٹلز کے دروازے کھولتے نہ کہ پانی اور کھانے کی چیزوں کے پیسےڈبل کرلیے گئےان رویوں کو دیکھ کر ہم کس طرح انسانیت کی بات بھی کرسکتے ہیں۔ پنجاب حکومت کا ایک محکمہ پنجاب ٹورازم کے نام سے موجود ہےجس کا کام ہوٹلز کے کرایوں سے لے کر سیاحتی مقامات کی انتظامات کو بھی دیکھنا ہے مگر وہ کہاں ہے،یہ بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس وقت مری مافیا کو لگام اور مری کو جدید انفراسٹرکچر، ڈزاسٹرمینجمنٹ کے بغیر سیاحت کے لیے جاری رکھنا شدید زیادتی ہوگی۔

سچ تو یہ بھی ہے کہ اس ملک کا مسلمان رمضان ہو، عید ہو، سیر کا سیزن ہو تاجر گدھ کی طرح گاہک کو نوچتا ہے۔ ائیرلائنز کے کرائے، ہوٹلوں کے کرائے، کپڑوں کی دکانیں،سب لوٹتے ہیں۔ پیٹرول والوں کو پتا لگے کہ اگلے روز قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو پمپ بند کردیتے ہیں۔

اس سانحے نے  انتظامی نااہلی اور انسانیت پرکئی سوال کھڑے کردیے ہیں۔ اب ہمیں خود کا احتساب کرنا ہوگا کہ کہیں ہم بحثیت قوم ایک زوال کا شکار معاشرہ تو نہیں؟ میری حکومت وقت سے اپیل ہے کہ کمیٹی کمیٹی نہیں، خدارا کچھ تو ایکشن لیں، خدارا کہیں تو بےرحم احتساب کریں۔

ارم زعیم نیوز اینکر اور بلاگر ہیں۔ وہ سیاست،عالمی امور اورکھیلوں پرگہری نظررکھتی ہیں۔ان سے درج ذیل ٹوئٹرہینڈل  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

@Erummkhan
Tabool ads will show in this div