کیا مکران اور سندھ میں شدید زلزلہ، سونامی آنیوالا ہے؟

جانیے محکمہ موسمیات کی وارننگ،ماہرین کی آراء
[iframe width="100%" height="435" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0"marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/TltcP4A-40I"]

محکمہ موسمیات نے خبردار کی ہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر فالٹ لائن میں اتنی توانائی جمع ہوچکی ہے کہ وہ کسی بھی وقت زلزلہ لاسکتی ہے جو سونامی کا سبب بن سکتا ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ محمد ریاض کا کہنا ہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر زلزلہ آنے کا وقت آن پہنچا ہے، اگرچہ اس کے صحیح وقت کا تعین مشکل ہے لیکن مکران سبڈکشن زون کے فالٹ لائن میں اتنی انرجی جمع ہوچکی ہے کہ کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے جو ایک سونامی لاسکتا ہے۔

محمد ریاض نے کہا کہ سونامی کا خطرہ موجود ہے اور مکران کے ساحل کے سبڈکشن زون پر 8 یا اس سے زائد شدت کا زلزلہ آسکتا ہے جو کراچی اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ مکران کی ساحلی پٹی پر سن 1944 میں بھی زلزلہ اور پھر سونامی آیا تھا جس کے نتیجے میں 4 ہزار اموات ہوئی تھیں، یہ فالٹ لائن اب اپنا قدرتی ٹائم اسکیل مکمل کرچکی ہے اور مکران کے سمندر میں موجود سبڈکشن زون کافی سرگرم ہے اور شدت پکڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اب وہاں کسی وقت بھی زلزلہ اور پھر اس کے نتیجے میں سونامی آسکتا ہے۔

محمد ریاض نے بتایا کہ خاص طور پر سندھ اور مکران کے ساحل پر یہ خطرہ پہلے سے موجود ہے اور یہ کسی وقت بھی حرکت میں آکر سونامی کی صورت میں تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہ علاقہ مختلف طوفانوں اور آفات کی زد میں ہے یہاں سائیکلون بھی آتے ہیں، شدید بارشیں بھی ہوتی ہیں جیسا کہ ابھی گوادر اور مکران کے ساحل پر ہوئیں جبکہ زلزلے اور سونامی کا خطرہ اپنی جگہ پر موجود ہے اور اب اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو آگہی دینی چاہیے کہ انہیں اس حوالے سے کیا کردار ادا کرنا ہے، گھر بناتے وقت یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ یہاں کتنی شدت کا زلزلہ آسکتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں سونامی کی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کا انتظار کرنے اور یہاں وہاں نقل مکانی کرنے کی بجائے متاثرہ مقام پر ہی محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنی چاہئیں، اپنے گھروں کی تعمیر ایسی کرنی چاہیے کہ وہ زلزلے اور سونامی سے حفاظت کا سبب بھی ہوں۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ یہاں پر 8 درجے شدت سے زیادہ کا زلزلہ آسکتا ہے جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فٹ بلند لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ملیر فالٹ لائن پر بھی چھوٹی اور درمیانی رینج کے زلزلے آسکتے ہیں، پہلے بھی آتے رہے ہیں اور مزید بھی آئیں گے، ہمیں مکانات اور عمارتیں بناتے وقت قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کراچی میں گجر نالے سمیت بڑے نالوں کی صفائی اور اس سے تجاوزات کا خاتمہ اچھا عمل ہے، تیز بارش کے نتیجے میں پانی جلد از جلد ڈرین ہوگا جس سے اربن فلڈنگ سے بچا جا سکتا ہے۔

محمد ریاض کا کہنا تھا کہ ساحلی پٹی پر تیمر کی پلانٹیشن انتہائی ضروری ہے جس کے نتیجے میں جو 'پری اور پوسٹ' مون سون میں سائیکلون کے خدشات ہوتے ہیں ان سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، اسی طرح یہ سونامی کے خطرتات بھی کم کردیتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کی بات کی تائید کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مکران کی ساحلی پٹی پر دو ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں اور گوادر کے جنوب میں تقریباً 40 ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر وہ پوائنٹ ہے جہاں یوریشین اور انڈین پلیٹس ملتی ہیں جو کہ سبڈکشن زون کہلاتا ہے۔

سید سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ سبڈکشن زون میں جب بھی پلیٹس حرکت کرتی ہیں تو اس کی وجہ سے زلزلہ آسکتا ہے اور زلزلے کے اثرات اگر سمندر پر ہوں تو اس کے نتیجے میں سونامی جنم لیتا ہے اور یہ زلزلہ زمین پر آئے تو اس کے زمین پر نقصانات ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں زلزلوں کی تاریخ موجود ہے، ایک بڑا زلزلہ سمندر میں سن 1944 میں آیا تھا وہ اسی مکران سبڈکشن زون میں آیا تھا جس کے نتیجے میں اس وقت کراچی اور بلوچستان کے ساحل پر 4 ہزار اموات ہوئی تھیں اور 10 سے 12 فٹ تک اونچی لہریں بنی تھیں، اس زلزلے کی شدت 7 سے زیادہ تھی۔

سید سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ اس وقت کراچی کی آبادی چند لاکھ تھی جو اب کروڑوں میں ہے اور خدانخواستہ ایسا کوئی واقعہ ہوا تو کراچی میں بہت زیادہ ہلاکتیں ہوں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ باقی قدرتی آفات کی اطلاع کسی نہ کسی حد تک مل جاتی ہے لیکن زلزلہ ایک ایسی قدرتی آفت ہے جو بغیر کسی اطلاع کے آتا ہے تاہم سونامی کے لیے ہمیں تھوڑا وارننگ ٹائم مل جاتا ہے جس کا انحصار اس پر ہے کہ سونامی کتنی دور جنم لے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زلزلہ وہ واحد قدرتی آفت ہے جس کا ری ایکشن ٹائم نہیں ہوتا، وہ کچھ سیکنڈز کے لیے آکر تباہی کر سکتا ہے اور سونامی میں بھی وارننگ ٹائم کم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زلزلے سے بچاؤ کے لیے تو ضروری ہے کہ اس علاقے میں جو تعمیرات کی جارہی ہیں وہ بلڈنگ کوڈز کے مطابق ہوں اور عمارتوں کو زلزلہ پروف بنائیں جیسے جاپان میں ہوتا ہے، ہمارے پاس بھی بلڈنگ کوڈز موجود ہیں لیکن ان پر کافی حد تک عمل درآمد کی ضرورت ہے، کراچی میں بہت سی عمارتیں ہیں لیکن یہ بتانا ممکن نہیں کہ کون سی زلزلوں کی شدت برداشت کر سکتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی سندھ نے بتایا کہ نئے بلڈنگ کوڈز کے مطابق 7.5 یا 8 شدت کے زلزلوں کو برداشت کرنے کے قابل عمارتیں بنائی جانی چاہئیں تاہم اس پر عملدرآمد اسی وقت ممکن ہوگا جب تمام اسٹیک ہولڈرز کوڈز کی پاسداری کریں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے تمام 30 اضلاع کے لیے سپارکو کے ساتھ مل کر سروے کیا ہے جس کی ابتدائی رپورٹ آگئی ہے لیکن فائنل رپورٹ کا انتظار ہے، یہ یونین کونسل کی سطح تک کیا گیا سروے ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس نوعیت کے ڈیزاسٹر سے کس علاقے میں کتنا نقصان ہو سکتا ہے اور بچاؤ کے لیے کیا تدابیر کی جا سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ولنربلٹی اسسمنٹ جاری ہے جس میں کراچی کے علاقے بھی شامل ہیں، جس کے بعد اندازہ ہوگا کہ ہم کتنے تیار ہیں، اس سے پہلے ڈسٹرکٹ ٹھٹھہ پائلٹ پروجیکٹ تھا جس کے بعد 14 اضلاع اور پھر مزید 15 اضلاع شامل کیے گئے ابھی ڈیٹا مرتب کیا جا رہاہے، دو سے تین ماہ میں رپورٹ مکمل ہوجائے گی، اس کے بعد اس پوزیشن میں ہوں گے کہ کچھ بتا سکیں۔

Balochistan earthquake

سید سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جو سونامی آیا تھا اس وقت کراچی کی آبادی کم تھی، اونچی عمارتیں کم تھیں اور اس وقت 4 ہزار اموات رپورٹ ہوئی تھیں لیکن اب کثیرالمنزلہ عمارتوں اور آبادی کتنی دیکھ کر ممکنہ نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا تو کسی کو نہیں معلوم کہ سونامی کی لہریں کتنی اونچی آسکتی ہیں، جاپان میں جو سن 2011 میں زلزلہ آیا تھا س میں 30 سے 35 فٹ اونچی لہریں آئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی کی تشخیص جاری ہے کہ کہاں پر کتنا اثر آئے گا، اس وقت پی ڈی ایم اے 2 منصوبوں پر کام کررہی ہے، ایک یو این ڈی پی کے تعاون سے کراچی کے 2 اضلاع میں ہو رہی ہے، یہ اسسمنٹ بھی ہے اور ساتھ ہی کیماڑی اور ابراہیم حیدری میں سونامی کی پیشگی وارننگ کا نظام بھی لگایا جارہا ہے جس میں سونامی کی صورت میں سائرن بجیں گے اور عوام کو پتہ چل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کیماڑی اور ابراہیم حیدری گنجان آباد ہیں اور سب سے زیادہ سونامی کے خطرے کی زد میں ہیں اسی لیے ہم نے ترجیحی بنیادوں پر پہلے ان علاقوں پر توجہ دی ہے، پھر وہاں کے عوام کو تربیت دے رہے ہیں کہ سونامی کی صورت میں محفوظ پناہ گاہوں کی طرف کیسے جانا ہے، ان کے راستے کون سے ہوتے ہیں اور یہاں کس قسم کے ایکشن لینے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر سندھ کی ساحلی پٹی پر 17 اسٹیشنز لگائیں گے جن میں سے 3 یو این ڈی پی لگائے گی یہ اسٹیشنز لگائے جائیں گے۔

سید سلمان شاہ نے بتایا کہ اصل تیاری زلزلہ آنے سے پہلے ہوتی ہے تاکہ آپ کی عمارتیں محفوظ ہوں، زلزلہ آنے کی صورت میں سب سے پہلی چیز جو کی جانی چاہیے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی عمارت میں ہیں تو وہاں سے نکل جائیں اگر نکلنا ممکن نہ ہو تو کسی ٹھوس سطح کے نیچے پناہ لے لیں جس کے نتیجے میں پتھر، کنکریٹ یا سخت چیزوں سے محفوظ رہیں گے خصوصاً سر پر چوٹ نہیں لگے گی۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے کی صورت میں عمارت سے نکلنے کے لیے لفٹ کا استعمال کبھی نہیں کرنا چاہیے بلکہ سیڑھیاں استعمال کرنی چاہئیں تاہم اگر یہ ممکن نہ تو پھر وہیں کسی محفوظ پناہ گاہ تلاش کرکے اس کے نیچے چھپ جانا چاہیے جس کا طریقہ یہ ہے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو گردن کے گرد لپیٹ لیا جائے اور گردن گھٹنوں سے ملا لی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی ٹریننگ پروگرام بھی چل رہا ہے، 6 اضلاع میں ٹریننگ دے چکے ہیں اور مزید 14 اضلاع میں ٹریننگ جاری ہے، آگہی کے لیے پرائیویٹ بلڈرز، سرکاری ادارے جو تعمیرات کا کام کرتے ہیں جس میں ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ، ایری گیشن ڈپارٹمنٹ، ایجوکیشن ورکس ڈپارٹمنٹ شامل ہیں ان تمام کو ہم نے بلڈنگ کوڈز ایویرنس کی ٹریننگ کروائی ہے اور کیسے عمارتیں تعمیر کی جانی چاہیےْ اس کے لیے 6 اضلاع میں پبلک میسنز کو بھی تربیت دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزاسٹرمنیجمنٹ پلان بھی ہے جس میں کون سے اسپتال کہاں ہیں، ان میں کتنی گنجائش ہے، کون سے راستے ان اسپتالوں کو جاتے ہیں، ان میں ایمبولینسز کتنی ہیں، یہ تمام بہت ضروری باتیں اس میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں سونامی ایکسرسائز بھی کی ہیں جس کا مقصد لوگوں کو آگہی دینا ہے کہ سونامی کی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی جو انسٹالیشن کررہے ہیں اس میں بھی سونامی ایکسرسائزز شامل ہیں۔

سید سلمان شاہ نے بتایا کہ ماضی کے مقابلے میں کراچی کی فائربریگیڈ سروس بہتر ہوئی ہے، اسنارکلز اور نئی مشنری شامل ہوئی ہے تاہم کراچی جتنا بڑا شہر ہے اور جتنی اس کی آبادی ہے اس لحاظ سے یہ تیاریاں اب بھی کم ہیں۔ انہوں مزید بتایا کہ فائر بریگیڈ کی اس لیے بھی ضرورت پڑتی ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھتی ہے اس لیے ہم عوام سے بھی یہی کہتے ہیں کہ زلزلے کی صورت میں فوری طور پر گیس میٹرز اور مین وال بند کردینے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سرچ اینڈ ریسکیو قائم کر رہے ہیں جس کے لیے اخبار میں اشتہار بھی آچکا ہے اور ریکروٹمنٹ جاری ہے، سلیکشن کے بعد پنجاب سے ہمارا معاہدہ ہوا ہے، ریسکیو 1122 انہیں تربیت دے گی جس کے لیے ہماری یہ ٹیمیں لاہور ٹھوکر نیاز بیگ پر قائم ان کے سینٹرز میں تربیت حاصل کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ دوسرے فیز میں 14 اضلاع سے لوگوں کو تربیت دی جائے گی اور اس طرح ہمارے پاس 17 یا 18 ریسکیو ٹیمیں موجود ہوں گی، کے ایم سی کے ماتحت ایک سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم موجود ہے جسے این ڈی ایم اے نے سن 2008 میں تیاری کرائی تھی جبکہ پاکستان میں 3 ٹیمز ہیں ایک پاکستان آرمی، ایک سی ڈی اے اور ایک کے ایم سی کے ماتحت ہے، اس ٹیم کو مختلف حادثات کی صورت میں تعینات بھی کیا جاتا ہے۔

جناح اسپتال کی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ایمرجنسی سروسز کی ماہر ڈاکٹر سیمیں جمالی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کراچی میں چند ‘ٹرشری کیئر’ یا بڑے اسپتال ہیں جہاں بڑے حادثات یا قدرتی سانحات کے متاثرین کو دیکھا جاسکتا ہے، ابھی ہم نے سانحہ مری میں دیکھ لیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے اور نہ ایسے حادثات کے لیے ہماری کوئی تیاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ کسی بڑے حادثے یا زلزلے کے لیے ہماری یا ہمارے اسپتالوں کی کوئی تیاری نہیں ہے۔ گو حادثات جیسے کہ بم دھماکوں میں شعبہ حادثات میں دو دو سو مریضوں کا ایک وقت میں علاج کیا گیا لیکن پھر بھی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک بڑے پیمانے پر ہونے والے حادثات کا تعلق ہے وہ نہیں سمجھتیں کہ شہر یہ برداشت کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر سیمیں جمالی کا کہنا تھا کہ عمارتیں منہدم ہوئیں، بے تحاشہ لوگ زخمی ہوتے ہیں، اموات بھی ہوتی ہیں لیکن ہم اس طرح کی آفات کے لیے تیار نہیں ہیں، سن 2005 میں جو زلزلہ آیا اس کے لیے بھی ہم تیار نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں عمارتیں بہت پرانی ہیں، کراچی میں زلزلہ پروف عمارتیں نہیں ہیں، کوئی زلزلہ یا اس کے نتیجے میں سونامی آجائے تو ہم اس کے لیے تیار ہی نہیں ہیں تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ہم افرادی قوت تیار کریں اور ایسے علاقوں اور اسپتالوں کا انتخاب کریں جنہیں ایسے حادثات و واقعات کے لیے پہلے سے تیار کرلیں۔

Tabool ads will show in this div