کراچی: گلستان جوہر میں لڑکی کے قتل کا معمہ حل

لڑکی کو والد نے قتل کیا، پولیس

Child abuse Depression-TrinetteLucas-option 2-Sept 9

کراچی پولیس نے گلستان جوہر میں تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل گولی مار کر قتل کی جانیوالی لڑکی کے کیس کا معمہ حل کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو اس کے سگے والد زین العابدین نے قتل کیا، جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

شاہراہ فیصل انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق گلستان جوہر بلاک 12 میں 17 نومبر 2021ء کو 16 سالہ لڑکی کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا، شاہراہ فیصل تھانے میں درج مقدمے کے مدعی لڑکی کے والد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وقوعہ کے روز کسی نامعلوم شخص نے اس کے گھر کا پچھلا دروازہ بجایا اور جونہی اس کی بیٹی نے دروازہ کھولا، نامعلوم شخص لڑکی کے سر پر گولی مار کر فرار ہوگیا۔

پولیس نے گلستان جوہر میں اندھے قتل کا معمہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد حل کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو اس کے حقیقی والد زین العابدین نے پڑوسی لڑکے کے ساتھ ناجائز تعلقات کے شبہے میں قتل کیا۔

تفتیشی افسران کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کا ایک خول ملا تھا جو پولیس نے قبضہ میں لے کر معائنہ کیلئے بجھوادیا تھا، ملزم پولیس کو مختلف کہاںیاں سنا کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن ایس ایس پی انویسٹی گیشن ون ایسٹ زون الطاف حسین کی سربراہی میں ٹیم نے تکنیکی بنیاد پر تحقیقات کے بعد ملزم زین العابدین کا لائسنس یافتہ نائن ایم ایم پستول قبضہ میں لے کے معائنہ کیلئے فارنزک لیب بھجوایا، جہاں سے آنیوالی رپورٹ میں اس پستول سے گولی چلنے کی تصدیق ہوگئی۔

پولیس نے شواہد کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کرکے باضابطہ مقدمہ درج کرلیا۔  دوران تفتیس ملزم نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وقوعہ والے روز اس نے باقاعدہ پلاننگ کے تحت اپنے گھر کے پچھلے دروازے پر دستک دی اور جونہی میری بیٹی نے دروازہ کھولا، میں نے اپنے پستول سے اس کے سر پر گولی مار دی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئی۔

ملزم کا مزید کہنا تھا کہ وہ پچھلی گلی سے ہی موقع واردات سے فرار ہوگیا۔ تھا اور پھر اپنی بیوی کے فون کرنے پر چند لمحوں میں ہی واپس گھر پہنچ گیا۔

ملزم زین العابدین اپنے پڑوسی کو بھی قتل کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اپنے والدین کے ساتھ وقوعہ والے روز ہی کسی اور مقام پر منتقل ہوگیا تھا۔

Tabool ads will show in this div