پی ایم سی نے جناح سندھ یونیورسٹی کوداخلوں سے روکدیا

یونیورسٹی کو نجی کالجز میں داخلوں کا اختیار نہیں، کمیشن

پاکستان میڈیکل کمیشن اور محکمہ صحت سندھ میں تنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور دونوں جانب سے ہونیوالے اقدامات میڈیکل کے طلباء کیلئے مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو پرائیویٹ کالجز میں داخلوں سے روک دیا ہے اور اسے آئین پاکستان کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے سے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا اشتہار آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے، یونیورسٹی کی جانب سے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلے کا اشتہار سپریم کورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی ہے، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلے کا کوئی اختیار نہیں۔

واضح رہے کہ حکومت سندھ نے ایم ڈی کیٹ میں 50 فیصد نمبر لینے والے طلبہ و طالبات کو میڈیکل کالجز میں داخلے دینے کیلئے نوٹیفکیشنز جاری کیا تھا، اس مقصد کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کا تقرر کیا تھا،

انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ وہ سندھ کابینہ اجلاس کے فیصلے کے مطابق سندھ کے پبلک پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلے شروع کریں۔

محکمہ صحت سندھ کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلوں کیلئے پاسنگ پرسنٹیج 65 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد کرنے کی منظوری دی تھی۔

وزیر صحت سندھ چند ماہ پہلے پریس کانفرنس میں ایس ایم ڈی سی کے قیام کا عندیہ دے چکی ہیں۔ عذرا فضل پیچوہو کا کہنا تھا کہ اگر 65 فیصد سے کم نمبر پر داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات کو پی ایم سی تسلیم نہیں کریگا تو ہم ایس ایم ڈی کے قیام کا قانون لائیں گے۔

پی ایم سی کے خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ کی صوبائی کابینہ کو میڈیکل کالجوں میں داخلے کا طریقۂ کار تبدیل کرنے کی آئینی اجازت نہیں ہے، محکمہ صحت سندھ کو بھی پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلہ دینے کا اختیار نہیں ہے۔

پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے جناح سندھ میڈیکل کالج کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بنائی گئی داخلہ کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

محکمہ صحت سندھ سندھ میڈیکل کالجوں میں داخلے کا طریقۂ کار تبدیل نہیں کرسکتا ہے، پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو کہا گیا ہے کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی ہدایات پر عمل نہ کریں۔

پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو انتباہ کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے میڈیکل کالج کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، 65 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنیوالے طلباء کو پی ایم سی رجسٹر نہیں کرے گا۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر شاہد رسول نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پی ایم سی کی جانب سے خط موصول ہوا ہے لیکن میں سرکاری ملازم اور داخلہ کمیٹی کا ممبر ہوں، مجھے سندھ حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن ملا تھا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں داخلے شروع کریں، اگر پی ایم سی کو اس پر کوئی اعتراض ہے تو براہ راست سندھ حکومت کو خط لکھیں یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس سال بھی داخلے نہ ہوئے تو پرائیویٹ میڈیکل کالجز بند ہوجائیں گے، انہیں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ہم سے تو پوچھنا چاہئے تھا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ پی ایم سی سندھ حکومت کے فیصلے کو تسلیم کرے، یہ بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

Tabool ads will show in this div