قرآن کی لازمی تعلیم سےمتعلق سیکرٹری ایجوکیشن کی رپورٹ غیرتسلی بخش قرار

اساتذہ کے تقرر کے حوالے سے رپورٹ دوبارہ طلب
Jan 06, 2022

[caption id="attachment_2408439" align="alignnone" width="670"]Quran memorize فوٹو: اے ایف پی[/caption]

لاہور ہائی کورٹ نے قرآن مجید کو لازمی تعلیم قرار دینے کے لیے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سیکرٹری ایجوکیشن کی رپورٹ کو مسترد کردیا اوران سے اساتذہ کے تقرر کے حوالے سے رپورٹ دوبارہ طلب کرلی۔

لاہورہائیکورٹ میں قرآن مجید کو لازمی تعلیم قرار دینے کے لیے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی۔سیکرٹری ایجوکیشن نے اساتذہ کی بھرتی سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی۔

عدالت میں سیکرٹری ایجوکیشن غلام فرید،ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سمیت دیگر افسران بھی پیش ہوئے۔

عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن کی رپورٹ کو مسترد کردیا اوران سے اساتذہ کے تقرر کے حوالے سے رپورٹ دوبارہ طلب کرلی۔

اس سے قبل عدالت سے سیکرٹری ایجوکیشن سے استفسار کیا کہ  کیا 37 ہزار آرٹس اور سائنس کے اساتذہ بچوں کو قرآن مجید پڑھائیں گئے۔ اس پر سیکریٹری ایجوکیشن نے جواب دیا کہ ان میں سے جو قرآن مجید پڑھانا جانتے ہیں،وہ پڑھا سکتے ہیں۔

سیکرٹری ایجوکیشن سے سوال کیا گیا کہ آپ کے پاس کتنے اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں۔ اس پر انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں کل 90 ہزار اسکولوں کی آسامیاں خالی ہیں۔

سیکرٹری ایجوکیشن سے مزید استفسار کیا گیا کہ پھر ان تمام خالی آسامیاں کو پورا کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔

انھوں نےعدالت کو بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث بھرتیاں نہیں کررہے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایم اے اسلامیات کے لیے 35 ہزار پرائمری اسکول کے لیے اساتذہ ہیں جن کی ٹریننگ کی جارہی ہے۔

درخواست گزار نےعدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ مسلمانوں کے نوجوان بچوں کو قرآنی تعلیمات دے کر معاشرے کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب:عربی پڑھانےوالےاساتذہ کی بھرتی ہوگی،سیکریٹری اسکول ایجوکیشن

پنجاب کمپلسری ٹیچنگ آف ہولی قرآن ایکٹ 2017 منظور کیا گیا گیا تھا۔

دو ماہ قبل لاہورہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد اقبال پر مشتمل بینچ نے3 صفحات پر مشتمل عبوری حکم جاری کیا تھا۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا تھا کہ تمام اسکولوں میں قرآن پاک کو لازمی  مضمون کے طور پر پڑھانے سے متعلق عدالتی حکم پر عمل کیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے ہر ضلع کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کا دورہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ضلع کا چیف ایگزیکٹو دورے کے بعد رپورٹ تیار کرے گا کہ قرآن پاک کولازمی مضمون کےطور پر پڑھایا جا رہا ہے یا نہیں۔

سیکریٹری تعلیم چیف ایگزیکٹو آفیسر سے رپورٹ لے کرعدالت جمع کرائے گا، سیکریٹری اسکول عدالت کو بتائیں گے کہ قرآن پاک کی کلاس کے لیے کتنے پریڈ مختص کیے گئے۔

انہوں نے کہا تھا کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ قرآن پاک کی تعلیم کے لیے کتنے اساتذہ مختص کیے گئے ہیں اور ان کی تعلیمی قابلیت کیا ہے، رپورٹ میں یہ بھی درج ہوگا کہ اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابیں پنجاب کریکلم ٹیکسٹ بورڈ سے منظور شدہ ہیں یا نہیں۔