رانا ثنا کی نواز شریف اور فوج کے درمیان ڈیل کی تردید

نوازشریف کسی بھی ڈیل کےذریعے ملک میں تبدیلی نہیں چاہتے
Jan 06, 2022
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Rana-Sanaullah-Interview-Lhr-06-01.mp4"][/video]

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ آئی ايس پی آر کی بات کی تائيد کرتا ہوں کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، نواز شريف کا ايک ہی مؤقف ہے کہ کوئی ڈيل نہيں ہوگی۔

سماء ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت نے انسانیت اور سیاست کے نام پر بہت گڑبڑ کی ہے، فواد چوہدری کو پی ٹی آئی کے معاملات کا نہیں معلوم، یہ بعد میں آئے۔

پارٹی فنڈنگ سے متعلق گفتگو میں لیگی رہنما نے کہا کہ ن لیگ نے الیکش کمیشن میں اپنے اکاؤنٹس کی تفصیل پیش کی ہے، ن لیگ کے تقریباً تمام فنڈز پاکستان سے اکھٹے ہوئے ہیں۔

رانا ثنا اللہ سے جب گزشتہ روز ترجمان پاک فوج کے بیان سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے ترجمان کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، نواز شريف کا ايک ہی مؤقف ہے کہ کوئی ڈيل نہيں ہوگی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ وہ خود کو غیر جانبدار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کسی انڈر اسٹینڈنگ کے لیے نہ کسی سے گفتگو کر رہے ہیں نہ ایسی کسی انڈر اسٹینڈنگ کے نتیجے میں ملک میں کوئی تبدیلی چاہتے ہیں۔

انتخابات سے متعلق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کيلئے ہم کوئی ڈيل نہيں کريں گے، شفاف انتخابات کے مطالبے کو کوئی ڈيل سمجھتا ہے تو سمجھے، خانیوال اور پشاور کے انتخابات میں مداخلت نہیں ہوئی، ادارے غیر جانبدار ہوں تو حکومت ایک ماہ میں اپنے بوجھ سے گر جائے گی۔

بابر افتخار

واضح رہے کہ گزشتہ روز 5 جنوری کو راولپنڈی میں پریس بریفنگ میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار سے جب ڈیل سے متعلق سوال کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ڈیل سے متعلق ان لوگوں سے پوچھا جائے تو یہ باتیں کرتے ہیں، نواز شریف سے مبینہ ڈیل کی باتیں بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں، سوال کریں کہ کون ڈیل کر رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی اس طرح کی بات کر رہا ہے تو میں آپ سے کہوں گا کہ اُنہی سے سوال کریں کہ کون ڈیل کر رہا ہے، اس کے محرکات کیا ہیں، اس کا ثبوت کیا ہے کہ ڈیل ہو رہی ہے، اگر کوئی ایسی بات کر رہا ہے تو اس سے اس کی تفصیل ضرور مانگیں، میں (اس حوالے سے) بہت واضح ہوں کہ یہ سب بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں، اسے جتنا کم (زیرِ بحث لایا) جائے اتنا اس ملک کے مفاد میں بہتر ہے۔‘

عسکری ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج حکومتِ پاکستان کا ماتحت ادارہ ہیں اور اس کے احکامات کے تحت کام کرتی ہیں، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے، اس سے زیادہ مزید قیاس آرائی کرنی بھی نہیں چاہیے۔

ترین اور ق لیگ الگ ہوجائیں گے

اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے تہلکہ خيز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے پی ٹی آئی کے 23 لوگ رابطے ميں ہيں، مستقبل ميں ترين گروپ اور ق ليگ پی ٹی آئی کيساتھ نہيں جائيں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ يہ غلط ہے کہ ہم تحريک عدم اعتماد لانا نہيں چاہتے ہیں، سیاسی اتحادیوں سے اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے، پيپلز پارٹی اور ن ليگ کو انتخابی اتحاد نہيں کرنا چاہيے، ميری خواہش ہے کہ پی پی پنجاب ميں اپنا ووٹ بينک واپس لے، پی پی پنجاب کے ہر حلقہ سے اپنا اميدوار لائے۔

مسلم لیگ (ن) کا وزیراعظم نواز شریف

رانا ثنا سے جب سوال کیا گیا کہ آئندہ انتخابات کیلئے وزیراعظم کے عہدے پر پارٹی کی جانب سے کس کو نامزد کیا جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ مسلم ليگ (ن) کا وزيراعظم نواز شريف ہے، اگر وہ نہيں آئے تو شہباز شريف وزيراعظم ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر نواز شريف نہ آئے تو مريم نواز وزيراعظم کے لئے شہباز شريف کو خود نامزد کريں گی، شہباز شريف اور مريم نواز ميں کوئی جھگڑا نہيں، نواز شريف کا فروری تک واپسی کا کوئی امکان نہيں، پارٹی نے نواز شريف کو مشورہ ديا ہے کہ آنے سے پہلے ديکھيں کہ انصاف ملے گا کہ نہيں۔

Tabool ads will show in this div