کوہلو: نایاب نسل کے پرندوں کے شکار کی ویڈیوز وائرل

ملوث افراد کے خلاف 48 گھنٹوں میں کارروائی کا حکم

[video width="352" height="640" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/WhatsApp-Video-2022-01-05-at-9.38.04-PM.mp4"][/video]

بلوچستان کے علاقے کوہلو میں پابندی کے باوجود نایاب نسل کے پرندوں کا شکار جاری ہے، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے پر انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی۔

کوہلو میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی پرندوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے، جہاں تحصیل ماوند کے یونین کونسل سفید میں درجنوں کی تعداد میں شکاریوں نے نایاب نسل کے پرندوں کا غیر قانونی شکار کیا، ان پرندوں میں تلور، چکور اور تیتر شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق نایاب پرندوں کے شکار کیلئے بلوچستان، پنجاب اور سندھ سے شکاری گروپوں نے یونین کونسل سفید میں کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔

نایاب پرندوں کے شکار کیلئے شکاری پارٹیوں نے مختلف آلات، سولر پینل، جال، بیٹریاں، لاؤڈ اسپیکر، زنجیروں کے جال، کش پکڑ، شارٹ گن استعمال کیے۔

نایاب پرندوں کے شکار کی ویڈیو اور تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کی دوڑیں لگ گئیں، ڈپٹی کمشنر نے غیر قانونی شکار کی خبر پر نوٹس لیتے ہوئے ضلعی ناظم جنگلات و جنگلی حیات کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے نایاب پرندوں کی بے دردی سے نسل کشی کرنے والے شکاریوں کے خلاف جنگلی حیات تحفظ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

واقعہ کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سید عثمان شاہ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جب کہ غیر قانونی شکار کرنے والے افراد، سہولت کاروں اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف 48 گھنٹوں میں قانونی کارروائی عمل میں لانے کا بھی حکم صادر کیا گیا ہے۔

اپنے بیان میں ڈپٹی کمشنر کوہلو قربان مگسی کا کہنا تھا کہ آئندہ جس بھی تھانہ انچارج کے حدود میں غیر قانونی شکار کی شکایت موصول ہوئی متعلقہ انچارج کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Tabool ads will show in this div