جامعہ کراچی میں طلبا کوبلیک میل کرنے والے2ملزمان گرفتار

پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) سندھ کے سائبر کرائم سیل نے جامعہ کراچی میں طلبا کی ویڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کرنے میں ملوث 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔

ایف آئی اے سندھ کے سربراہ عمران ریاض کے مطابق ملزمان، طلبا کی ویڈیوز ان کی مرضی کے بغیر بناتے تھے جبکہ وہ جامعہ کے مختلف حصوں میں بیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔

انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ  'گزشتہ ہفتے، ہمیں ایک طالبہ کی طرف سے شکایت موصول ہوئی کہ اسے ان افراد سے ملاقات کرنے اور تاوان ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ملزمان نے دھمکی دی تھی کہ وہ خاتون کی ویڈیوز یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کریں گے'۔

ملزمان جن کی شناخت فضل داد اور عدنان علی کے نام سے ہوئی ، ان کو چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا اور ان کے ڈیجیٹل آلات قبضے میں لے کر فرانزک کے لیے بھیج دئیے گئے۔

عمران ریاض نے کہا کہ مشتبہ افراد کے موبائل فون سے ملنے والی ویڈیوز میں یونیورسٹی کے سات جوڑوں کی 'غیر اخلاقی اور غیر مہذب' تصاویر ملیں۔

انہوں نے کہا کہ 'اب تک، ایک جوڑے نے ملزمان کے خلاف شکایت درج کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جب کہ دیگر نے پرائیویسی خدشات کے باعث سامنے آنے سے انکار کردیا ہے'۔

ملزمان کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے سیکشن 21،20،16 اور 24 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 اور 383 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

دریں اثنا جامعہ کے کیمپس سیکیورٹی افسر محمد آصف نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ فضل داد یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈ کے بھائی ہیں جبکہ عدنان علی جغرافیہ ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر کے ڈرائیور ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فضل داد اپنے بھائی کے ساتھ اسٹاف ٹاؤن میں ملازمین کے کوارٹر میں رہائش پذیر تھے جبکہ دوسری جانب عدنان علی یونیورسٹی کے اندر ہی سرونٹ کوارٹر میں رہتے ہیں، دونوں ملزمان رکشہ ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں۔

آصف نے انکشاف کیا کہ ملزمان نے جامعہ کے ہاکی گراؤنڈ میں لڑکے اور لڑکی کی ویڈیوز بنائی تھیں، انہوں نے یونیورسٹی میں ایک خاتون طالب علم کا موبائل فون نمبر حاصل کیا، اسے فحش مواد بھیجا اور رقم کے لیے اسے بلیک میل کیا۔

خیال رہے کہ جامعہ کراچی 1200 ایکڑ اراضی پر پھیلی ہوئی ہے اور طلبہ بعض اوقات کیمپس کے اندر نقل و حرکت کے لیے یا یونیورسٹی کے دروازوں تک پہنچنے کے لیے رکشوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی میں ٹرانسپورٹ کا محکمہ ہے جس میں بسوں کی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن ان میں سے زیادہ تر خراب ہیں اور طلبا کو شٹل سروس کی عدم دستیابی کی وجہ سے یونیورسٹی کے اندر رکشوں کو جانے کی اجازت ہے۔

سیکیورٹی افسر نے مزید کہا کہ باہر والوں کو کیمپس کے اندر رکشہ چلانے کی اجازت نہیں ہے، یہ زیادہ تر کم گریڈ کے ملازمین یا ان کے رشتہ دار ہیں جو رکشے چلاتے ہیں۔ 

Tabool ads will show in this div