گیس کی قلت، ایک انار سو بیمار

1

دسمبر کا آغاز ہوتے ہی پنجاب کے کھاتے پیتے گھرانے تو برف باری اور میٹھی میٹھی سردی کا مزہ لینے مری اور شمالی علاقوں کا رخ کر لیتے ہیں، مگر متوسط اور غریب طبقات کو ایک الگ ہی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے، اب گیس تو نہیں ملے گی تو چولہا کیسے جلے گا، پنجاب اور خیبر پختونخوا کو گیس فراہم کرنیوالی کمپنی کے پاس روزانہ گیس تو ایک ارب 20 کروڑ مکعب فٹ ہی دستیاب ہے، لیکن طلب بڑھ کر ڈھائی ارب مکعب فٹ سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

جنوری کا مہینہ پنجاب اور ملک کے دیگر بالائی علاقوں کیلئے سرد ترین مہینہ سمجھا جاتا ہے، جب ہیٹرز اور گیزرز کا استعمال بڑھنے سے گیس کی طلب 3 ارب مکعب فٹ سے بھی بڑھ جائے گی اور دستیاب گیس تو وہی سوا ارب مکعب فٹ ہی ہوگی، 10 سال پہلے پنجاب میں گیس کا بحران اتنا زیادہ نہیں تھا، سی این جی اسٹیشنز کھلے رہتے تھے اور صنعتوں کو بھی بلاتعطل گیس کی فراہمی رہتی تھی۔

آخر ایسا کیا ہوا کہ گیس نایاب ہی ہوگئی، توانائی کے ماہرین کے مطابق 1992ء کی گیس پالیسی کے مطابق پنجاب میں 2 ہزار سے زائد سی این جی اسٹیشنز قائم کردیے گئے اور ہر صنعت کو بجلی کی بجائے گیس پر منتقل کردیا گیا، رہی سہی کسر سیاسی بنیادوں پر بلا سوچے سمجھے گیس کنکشن دینے سے پوری ہوگئی۔

1a

پنجاب کے بڑے چھوٹے شہروں میں لاکھوں تندوروں اور ہوٹلز میں بھی ہر روز کروڑوں مکعب فٹ گیس استعمال کرلیتے ہیں، دوسری طرف پچھلے 3 سالوں میں سوئی ناردرن کے پاس گیس کی دستیابی 2 ارب مکعب فٹ سے کم ہوکر ایک ارب 20 کروڑ مکعب فٹ تک رہ گئی ہے، جہاں ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی آرہی ہے تو 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا بھی پنجاب کو گیس تب فراہم کریں گے، جب ان کی اپنی ضرورت پوری ہوگی۔

پنجاب میں گیس کی پیداوار تو طلب کا صرف 5 فیصد ہے، ان حالات میں گیس کی دستیابی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت کی عادت بھی ڈالنی ہوگی، خواتین خانہ کو ماچس کی ایک تیلی بچانے کیلئے چولہے کو جلتے رہنے سے روکنا ہوگا۔ گیس کے غیر ضروری ضیاع کی وجہ سے ہی مائع قدرتی گیس کی درآمد کے باوجود بھی صنعتوں کو گیس دستیاب نہیں ہورہی اور صنعتوں کو بوائلرز کو گرم رکھنے کیلئے درآمدی کوئلہ اور لکڑیاں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

1b

ایک اندازے کے مطابق پنجاب میں تیار ہونیوالی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں 20 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے یہ مصنوعات نا صرف دیگر صوبوں کے مقابلے میں مسابقت کھوچکی ہیں بلکہ بین الاقوامی منڈی میں بھی مقابلہ ممکن نہیں رہا۔ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی طلب کے مقابلے میں گیس کی پیداوار بہت کم ہے، مگر وہاں عوام کو قدرتی گیس فراہم کرنے کی بجائے مائع پیٹرولیم گیس، ایل پی جی کو فروغ دیا گیا ہے، بنگلادیش میں تو گھریلو استعمال کیلئے قدرتی گیس حاصل کرنے کی قیمت ایل پی جی سے کئی گنا زیادہ ہے۔

بیشتر ممالک میں گیس کو بجلی کی پیداوار اور صنعتوں کو چلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں سردیوں میں تمام گیس چولہوں، گیزرز اور ہیٹرز میں جلادی جاتی ہے، صنعتوں اور پاور پلانٹس کو مہنگے ایندھن پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے سردیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے، وقت آگیا ہے کہ قدرتی وسائل کا صرف جائز استعمال ہی ہو تاکہ توانائی کے حصول کیلئے دیگر ممالک کی طرف دیکھنے کی بجائے مقامی وسائل سے ہی فائدہ اٹھایا جاسکے۔

cold Weather

Energy Crisis

INDUSTRIES

Tabool ads will show in this div