کراچی:کرونا کیسزکی شرح 6فیصدسے متجاوز،مرتضیٰ وہاب

یہ صورتحال تشویشناک ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی
Jan 03, 2022

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/01/Murtaza-Wahab-corona-chunk-s.mp4"][/video]

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں کرونا وائرس کے مثبت کیسزکی شرح 6  فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ چند ہفتوں میں اومی کرون ویرینٹ کے باعث کیسز میں تیزی آئی ہے اور کراچی شہر میں بالخصوص کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں ایک بار پھر حکومتِ سندھ کی جانب  سے شہریوں سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ ایس او پیز (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز) پر عمل کرنا شروع کریں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئے دن جو ہماری سماجی سرگرمیاں ہورہی ہیں، شادی بیاہ کی تقاریب ہورہی ہیں، بازار کھلے ہیں، ہم اس وقت کوئی سختی نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ شہری اپنی آمدورفت میں ایس او پیز کا خیال رکھیں، سماجی تقاریب میں بھی ان پر عمل کریں اور بالخصوص ماسک پہنیں کیونکہ آج بھی ڈاکٹرز نے یہ تجویز دی کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ ماسک پہننا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے کراچی میں کیسز کے حوالے سے صورتحال اچھی نہیں ہے، یہ تشویشناک ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے عوام کو تاکید  کی کہ ماسک پہنیں تاکہ کسی کو وائرس منتقل نہ ہو اور نہ ہی کسی متاثرہ فرد سے وائرس نہ لگے۔

انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی ویکسینیشن کروائیں کرونا کا زور ٹوٹا تو لوگوں نے ویکسین لگوانا چھوڑ دی تھی،صوبہ سندھ میں پہلی اور دوسری ڈوز ملا کر مجموعی طور پر 2 کروڑ 90 لاکھ افراد ویکسین لگواچکے ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک لاکھ 80 ہزار نے افراد پہلی ڈوز لگوائی اور ایک کروڑ 10 لاکھ افراد دونوں ڈوز لگواچکے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کی کُل آبادی تقریباً 5 کروڑ ہے تو ہمیں ویکسینیٹڈ افراد کی تعداد میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یومیہ بنیادوں پر اس تعداد میں اضافہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد ساڑھے 3 سے 4 لاکھ تک پہنچنی چاہیے تاکہ عوام کو کرونا وائرس کی وبا سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اومی کرون ویرینٹ آچکا ہے اور وہ تیزی کے ساتھ پھیلاؤ کو روکنا ہے، اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک بات میں واضح کردوں کہ سندھ حکومت نے کوئی لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ ابھی صورتحال بظاہر قابو میں نظر آرہی ہے اور اسی لیے شہریوں سے احتیاط کرنے کی گزارش کی ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے  صحت کارڈ سے متعلق  وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جو 8 سال سے خیبرپختونخوا میں اقتدار میں ہے جو کہتی ہے کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں دودھ و شہد کی ندیاں بہادی ہیں اور اب پنجاب و بلوچستان میں بھی اسی طرح کی چیزیں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کا اجرا دھوکا دہی ہے کیونکہ بنیادی طور پر حکومتوں کا کام احسن طریقے سے اسپتالوں کو چلانا ہے اور اگر اسپتال اچھے طریقے سے چل رہے ہوں، تمام طبی سہولیات میسر ہوں، ڈاکٹرز، طبی عملہ اور ادویات ہوں تو لوگ اپنا علاج کراسکتے ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے مزید کہا کہ یہ صحت کارڈ لانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ وہ اپنی حکومت میں سرکاری اسپتالوں کو ٹھیک نہیں کرسکی چاہے وہ خیبرپختونخوا ہو، پنجاب، اسلام آباد یا بلوچستان ہو۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معیاری علاج نہیں مل رہا اس لیے وہ کہہ رہے کہ آپ پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کریں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سرکاری اسپتالوں کوبہتربنایا اس لیےصحت کارڈ جاری نہیں کررہے۔

 

 

Tabool ads will show in this div