بنیادی غذائی اشیاء پرٹیکس استثنیٰ برقراررکھا، چیئرمین ایف بی آر

آئی ایم ایف ٹیکس سسٹم میں خامیاں ختم کرنا چاہتا ہے
Dec 31, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Chairman-FBR-Talk-Isb-31-12.mp4"][/video]

چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے بنیادی غذائی اشیاء پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا ہے، 42 اشیاء پر 17 فیصد سے کم ٹیکس عائد جسے یکساں کردیا گیا ہے۔

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پر صرف دو ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، جن میں پرسنل کمپیوٹر اور سلائی مشین شامل ہے، اس کے علاوہ ماچس، نمک اور مرچ پر بھی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے۔

اُن کے مطابق 42 اشیاء پر 17 فیصد کے بجائے مختلف شرح پر ٹیکس عائد تھا جو کہ 17 فیصد یکساں ریٹ کردیا گیا ہے، ان میں گاڑیاں اور موبائل فون بھی شامل ہیں، 1300 ڈالر کے موبائل فون پر 42 ہزار  روپے کا ٹیکس لیا جائے گا، اس سے پہلے ان موبائلز پر 9270 روپے کا ٹیکس عائد تھا۔

چیئر مین ایف بی آر نے فارما سیکٹر کے ٹیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فارما سیکٹر کا 700 ارب میں سے 530 ارب روپے کا کاروبار غیر دستاویزی ہے، جس کی وجہ سے اس شعبے کا ریونیو میں حصہ بہت کم تھا، فارما سیکٹر میں بھی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لے کر آئیں گے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ دواؤں کی مارکیٹ میں 15 سے 20 فیصد قیمتیں کم ہونی چاہئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فارما پر 160 ارب کا استثنیٰ واپس لیا گیا جبکہ مشینری اور فارما پر ٹیکس ریفنڈ دیا جائے گا، اس کے علاوہ ٹیلی کام سروسز پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ اون منی کی روک تھام کیلئے گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس میں اضافہ اور درآمدی بل پر دباؤ کم کرنے کیلئے 1000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھائی گئی ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کے مطابق گاڑیوں کی صنعت میں مختلف لابیز کام کررہی ہیں، یہ لابیز اور گروپ مختلف وزارتوں سے مل کر ٹیکس مراعات لیتے ہیں جبکہ آئی ایم ایف نے انڈسٹری کو مراعات دینے کی مخالفت کی ہے۔

اُن کے مطابق آٹو موبائل انڈسٹری کو  ٹیکس مراعات دینے کا معاشی جواز نہیں ہے، ہمارا ٹیکس سسٹم ایک طویل عرصے سے دباؤ میں ہے، اسی لئے سپلیمنٹری فنانس بل میں کچھ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہوئے اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ ایک حقیقت ہے، آئی ایم ایف کی ہمیشہ سے ڈیمانڈ تھی ٹیکس سسٹم ٹھیک کریں، ہر بار نئے ٹیکس لگائے گئے، ماضی کی ٹیکس چھوٹ کو کسی نے ختم نہیں کیا۔

بریفنگ کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف ٹیکس سسٹم میں خامیاں ختم کرنا چاہتا ہے، آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے ریونیو میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا، آئی ایم ایف نے تمام شعبوں پر یکساں 17 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا کہا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف گروپوں کو 70 سال سے حاصل 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی جارہی ہے، ٹیکس چھوٹ سے غریب کے بجائے امیر طبقہ مستفید ہورہا ہے۔

Tabool ads will show in this div