پنجاب: فٹنس سرٹیفکیٹ کےبغیر گاڑی نہیں چلے گی

محکمہ ٹرانسپورٹ نےسڑکوں پرناکے لگادیے

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Vics-On-Vehicle-Fitness-And-Smog-Lhr-Pkg-30-12.mp4"][/video]

پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ لاہور سميت صوبے بھر ميں صرف فٹنس سرٹیفکیٹ کی حامل گاڑی کو ہی داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ نے سڑکوں پر ناکے لگاديے ہیں اور وہیکل انسپکشن سینٹرز پر ايک ماہ ميں ايک ہزار گاڑيوں کي چيکنگ ہوئی ہے۔

محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس با کو یقینی بنانے کے لیے کہ کہیں گاڑی سے دھواں تو نہیں نکلتا، بریکس صحیح  لگتے ہیں اور گاڑی کی عمومی حالت کو چیک کرنے کے لیے سخت اقدامات جاری کیے ہیں۔ محکمے کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی ہدایات پر صرف فٹ گاڑی کو ہی سڑک پر آنے کی اجازت دے جا رہی ہے۔

انسپکٹر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی محمد ذیشان نے کہا کہ جب سے نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے پولیس فٹنس سرٹیفکیٹس چیک کر رہی ہے تاکہ ہر طرح  سے فٹ گاڑی ہی سڑک پر نظر آئے۔

حکومتی سختی کے بعد وہیکل انسپکشن سینٹرز پر بھی  گاڑیوں کی قطاریں نظر آنا  شروع ہو گئی ہیں، سینٹر کے حکام کا کہنا تھا کہ 23  دسمبر کے حکومتی  نوٹیفکیشن کے بعد انسپیکشن کے لیے آنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھی ہے۔

ڈائریکٹر وھیکل انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم ابراہیم خلیل کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں ایک ہزار گاڑیاں سینٹرز  میں آئیں جو ماضی کی نسبت خاصی زیادہ ہیں۔

پنجاب میں رجسٹرڈ کمرشل گاڑیوں کی مجموعی تعداد 9 لاکھ  سے زائد ہے مگر ان میں سے صرف  2 لاکھ  ہی  باقائدگی سے انسپکشن کرواتی ہیں۔

Tabool ads will show in this div