مفتی تقی عثمانی کی کراچی میں مسجدگرانے کےعدالتی حکم کی مذمت

اقدام کو بلاجواز قرار دیا
Dec 30, 2021
[caption id="attachment_2203339" align="alignnone" width="800"] فوٹو: فیس بک[/caption]

مفتی تقی عثمانی نے کراچی کے علاقے طارق روڈ کی مدینہ مسجد کو گرانے کے عدالتی حکم کی مذمت کی ہے اور اس اقدام کو بلاجواز قرار دیا ہے۔

دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی تقی عثمانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ مسجد کو شہید کرکےپارک بنانے کا حکم دینا قطعی طور پربلاجواز ہے۔طارق روڈپر یہ مسجد تقریباً 25 سال سے قائم اور نمازیوں سے آباد چلی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی مسجد کو سرسری طور پراہل محلہ کو سنے بغیر صرف تکنیکی وجہ سے ڈھانے کا حکم ناقابل فہم ہے اورعدالت خود اس پر فوری طور سے ازسرِنو جائزہ لے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان گلزار احمد نے 28 دسمبر سماعت کے دوران کراچی میں ہل پارک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی مسجد سمیت تمام تجاوزات گرانے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسلام غیرقانونی زمین پر مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتا، بلدیہ عظمیٰ کے پاس بھی پارک کی زمین  پر مسجد کا لائسنس دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

عدالت نے الفتح مسجد کی انتظامیہ کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے زمین واپس کرنے کا حکم بھی دیا۔

ٹرسٹی جاوید اقبال ایڈووکیٹ کے مطابق طارق روڈ پر مسجد کے مقام پر پہلے پارک تھا، 1994ء میں پی ای سی ایچ ایس انتظامیہ نے یہ جگہ مسجد کیلئے وقف کردی تھی۔ عدالت میں وقف کے کاغذات پیش کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مدینہ مسجد قبضے کی جگہ پر نہیں بلکہ وقف جگہ پر قائم کی گئی۔

Tabool ads will show in this div