پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہيں، امریکا

اسٹاف رپورٹ

واشنگٹن: عوامی توقعات کے ساتھ امريکا جانے والے وزير اعظم نواز شريف کي امريکي صدر براک اوباما سے اہم ترين ملاقات ہوگئي۔

نواز شريف نے ميزائل حملوں روکنے پر زور ديا اور مسئلہ کشمير کا معاملہ بھي اٹھايا ۔۔۔ امريکي صدر نے پاکستان کو ايم اسٹريٹجک پارٹنر قرار ديا ۔۔ اور توانائي بحران حل کرنے ميں ميں مدد دينے کا بھي وعدہ کيا۔

دونوں رہنماؤں نے انسداد دہشتگردي ميں تعاون بڑھانے پر بھي اتفاق کيا۔

 بڑے رہنماؤں کي بڑي ملاقات ہوگئي ۔۔۔ شکوے شکايتيں ہوئیں اور آئندہ ساتھ نبھانے کے وعدے بھي کرڈالے ۔۔

وزيراعظم پاکستان اور امريکي صدر وائٹ ہاؤس ميں دو گھنٹے تک سر جوڑ کر بيٹھے ۔۔ مشترکہ نيوز بريفنگ ہوئي تو ۔۔۔۔ براک اوباما نے پاکستان ميں دہشت گردي پر اپني تشويش سے آگاہ کيا ۔۔۔ اور بتايا کہ اسلام آباد اہم اسٹريٹجک پارٹنر ہے ۔۔ جس کي خودمختاري کا احترام  کرتے ہيں۔

امریکی صدر پاکستان کا توانائي بحران بھي نہ بھولے ۔۔۔ اور اميد دلائي کہ امريکا  انرجي سيکٹر سميت تمام شعبوں ميں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا ۔۔

نواز شريف نے ميزائل حملے روکنے کي ضرورت پر بھي زور ديا ۔۔۔ اور بتايا کہ دونوں ممالک کے درميان دہشت گردي ختم کرنے کے لئے تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

نوازشریف نے واضح کيا کہ دہشت گردی پاکستان اور بھارت کیلئے مشترکہ خطرہ ہے ۔۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی نہیں کرنی چاہئے۔ بھارت سے مسئلہ کشمير سميت تمام تصفیہ طلب امور مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہيں ۔۔

دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور امریکا دونوں کے مفاد میں ہے۔

امريکي صدر نے يقين دلايا کہ امریکا پرامن اور خوشحال پاکستان چاہتا ہے ۔۔۔ جو خطے اوردنیا کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت اور مدد کے لئے ہر کام کرنا چاہتے ہيں۔  

کی

کا

hijacking

decision

sarkozy

heroes

Tabool ads will show in this div