پاکستان اور سیاحت

فوربز میں شائع ایک آرٹیکل میں 2020 میں سفر کے لیے 10 بہترین ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا تھا
Dec 29, 2021

فلک بوس پہاڑوں، برف سے ڈھکی چوٹیوں، میدانی علاقوں، آبشاروں، جھیلوں، صحراؤں اور ایک لمبی خوبصورت سمندری ساحلی پٹی، وہ کون سی نعمت ہے جو اس ملک میں نہیں پائی جاتی، یہ سب کسی بھی ملک میں سیاحوں کی دلچسپی کا سامان ہوتی ہیں، اور پھر سونے پر سہاگہ ہم وہ قوم ہیں جو ہر آنے والے کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں بھرپور مہمان نوازی کرتے ہیں۔

یوں تو دوسرے ممالک میں سیاحت کو خاص ترجیع دی جاتی ہے وہ بھی اس لیے کہ اس کا معیشت پر بڑا اثر پڑتا ہے اگر ہم سوئیزر لینڈ کی بات کریں تو یہ ملک سیاحت سے کماتا ہے لیکن افسوس ہم نے بہت دیر بعد اس معاملے پر سوچا کہ کس طرح سیاحت سے ہم اپنی معیشت کو مضبوط کرسکتے اور اس کا کریڈٹ ہم وزیراعظم عمران خان کو دے سکتے ہیں انہوں نے اس شعبے میں ایک روح پھونک دی ہے اور سوشل میڈیا پر جس طرح پاکستان کی خوبصورتی کو اجاگر کیا گیا اور اس کے لیے جو اقدامات اٹھائے گئے وہ قابل تحسین ہیں جس پر تیزی سے کام بھی جاری ہے۔

میرا تعلق اپردیر سے ہے، تو بچپن سے ہی شمالی علاقہ جات جاتے رہے ہیں تو اگر موازنہ کیا جائے تو جب میں بچپن میں جاتی تھی تو سڑکوں کی حالت کچھ اچھی نہیں ہوتی تھی لیکن آج کئی سڑکیں پکی ہوچکی ہیں سفر انتہائی آرام دہ ہوچکا ہے چاہے وہ سوات ہو یا پھر کوہستان، اپر دیر سے کوہستان تک جو راستہ 8 گھنٹے کا ہوا کرتا تھا وہ سمٹ کر 3 گھنٹے کا ہوگیا ہے۔

یو تو ان نظاروں میں پہاڑ ہی پہاڑ ہیں لیکن خدا کی قدرت کہ ہر علاقے کے پہاڑوں کی اپنی ایک الگ ہی خوبصورتی ہے جو اس جگہ کو دوسری جگہ سے الگ بناتی ہے اور پھر ان پہاڑوں کے بیچ میں تالاب، ساتھ ساتھ چلتا دریا اور پہاڑوں کے دامن سے گرتی آبشاریں اور کھیت یہ سب بہترین چھٹیوں کے لیے کافی ہے اور تو اور صوبہ گلگت بلتستان سرسبز وشاداب وادیوں اور بلند وبالا پہاڑوں سے بھرا ہوا ہے۔

عالمی طور پر اس جگہ کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔غیرملکی سیاح اورکوہ پیما بڑی تعداد میں اس جگہ کا رخ کررہے ہیں، اس خطے میں دنیا کی خوبصورت، دلکش اور حسین ترین وادیاں ہیں جو حقیقی قدرتی ماحول اور مناظر سال کے چاروں موسموں میں سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں اور اب تو اسکردو کا انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی بن گیا ہے جو سیاحت کو چار چاند لگا دے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر تاریخ سے دلچسپی ہے تو پنجاب اور سندھ میں اس کی جھلک آپ کو نظر آئے گی جیسے کہ قلعہ ، دربار، قدیم قبرستان، قدیم مساجد، مندر، گردوارے اور چٹیل میدانوں میں ہرے بھرے کھیت آپ کو اپنی جانب کھیچنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور ایسے میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سال 2021 میں سیاحوں کے لیے 52 بہترین مقامات کی فہرست میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو بھی شامل کیا ہے جو خوش آئند ہے۔

Sea

کراچی میں رہنے کی وجہ سے مجھے ساحلِ سمندر سے پیار ہے،سمندر کنارے کھڑے ہوکر جب لہریں پیروں کو چھو کر گزرتی ہیں تو ایک راحت سی ملتی ہے۔لہروں کا شور ہر غم پریشانی بھلا دیتا ہے تو جناب یہ سمندر سندھ سے بلوچستان تک راحت کا سامان ہے جو قدرت نے ہمیں عطا کیا ہے ۔ اگر رخ کیا جائے بلوچستان کی ساحلی پٹی کا تو آپ کو ملک سے باہر جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ساحل بیرون ممالک کئی ساحلوں کو مات دیتے نظر آئیں گے ایک جانب شمالی علاقاجات کے پہاڑ تو دوسری جانب بلوچستان کے پہاڑ کیا ہی کہنے اس قدرت کے، جس نے ہر رنگ ہر موسم اس ملک کو عطا کیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں سیاحت پر خاص توجہ دی جارہی ہے، کئی غیرملکی سیاح یہاں آئے اور اس ملک کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔یہی وجہ ہے کہ معروف کاروباری میگزین فوربز میں شائع ایک آرٹیکل میں 2020 میں سفر کے لیے 10 بہترین ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا تھا۔

اس کےعلاوہ دسمبر 2019 میں سفری میگزین ونڈرلسٹ نے بھی پاکستان کے 9 مقامات کو 2020 میں ایڈوینچر کے لیے بہترین قرار دیا تھا۔ سیاحت کی بہتری کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے تو جناب بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں تک پہنچنا ایک امتحان ہوتا خاص طور پر دور دراز علاقے وہاں سڑکیں خستہ حال ہیں جان پر کھیل سیاح وہاں پہنچتے ہیں ان سڑکوں کو ہر سردی کے بعد ٹھیک کی جائیں کیونکہ سردیوں میں برفباری بارش سے سڑکیں خراب ہوجاتیں ہیں، اس کی مینٹیننس کا ہونا کافی ضروری ہے۔

مقامی ٹیورسٹ گائیڈز کا ہونا، سیکیورٹی، صفائی کا خاص انتظام، جگہ جگہ ریسٹ ہاؤس، ہوٹلز ہونا اور پھر ان کے چارجز کا بھی چیک اینڈ بیلینس رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ سیاح مشکلات کا شکار نہ ہوں اور یہ چیک اینڈ بیلنس کھانے پینے کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔مضر صحت کھانا اور بے جا ریٹس سیاحوں کی جیبوں پر بھاری پڑتے ہیں۔

دوسری جانب ابھی تاریخ و آثارِ قدیمہ کو محفوظ کرنے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، جگہ جگہ علامتی بورڈز کا ہونا بھی ایک ضرورت ہے، اس شعبے کو ترقی دینے سے جہاں ملکی و علاقائی معشیت کو ترقی دی جا سکتی ہے وہاں پر ہزاروں بے روز گار افراد کو روزگار کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کی جانب ایک قدم اٹھایا گیا تھا جسے کرونا نے بریک بھی لگائی لیکن ایک مرتبہ پھر پاکستان میں سیاحت کھولی گئی ہے نا صرف ملکی بلکہ غیر ملکی بھی آکر پاکستان کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں انشا اللہ وہ وقت دور نہیں جب سیاحت دنیا بھر میں اس ملک کی پہچان بنے گی دنیا کے کونے کونے سے لوگ اس ملک میں اپنا وقت گزارنے آئیں گے اوریہ شعبہ اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی۔

ارم زعیم نیوز اینکر اور بلاگر ہیں۔ وہ سیاست،عالمی امور اورکھیلوں پرگہری نظررکھتی ہیں۔ان سے درج ذیل ٹوئٹرہینڈل  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

@Erummkhan