نسلہ ٹاورکیس:پولیس کا ایس بی سی اےکے دفترپرچھاپہ

متعلقہ افسران سے پوچھ گچھ کی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ( ایس بی سی اے ) کے دفتر میں پولیس نے چھاپہ مارا اور نسلہ ٹاور سے متعلق درج مقدمے کے حوالے سے متعلقہ افسران سے پوچھ گچھ کی۔

پولیس کی بھاری نفری نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارا، خیال رہے کہ نسلہ ٹاور کیس میں عدالتی احکامات کے بعد مقدمہ درج ہوا تھا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ الطاف حسین کی سربراہی میں یہ چھاپہ مارا گیا، تفتیشی حکام فیروزآباد تھانے میں درج نسلہ ٹاور سے متعلق مقدمے میں اصل ذمہ داران کا تعین کریں گے۔ عدالتی احکامات پر کٹنے والی ایف آئی آر میں ذمہ داران کو گرفتار کیا جائے گا۔

بدھ کو تفتیشی حکام نے ماسٹر پلان سمیت دیگر شعبہ جات کے افسران سے بھی پوچھ گچھ کی، ڈائریکٹر ڈیزائن ایس بی سی اے فرحان قیصر سے ڈی ایس پی نے ان کے دفترمیں آ کر پوچھ گچھ کی۔

ایس ایس پی ایسٹ انویسٹی گیشن الطاف حسین نے ایس بی سی اے کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نسلہ ٹاور کیس میں تمام ریکارڈ طلب کرکے ذمہ داران کا تعین کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ افسران کی جانب سے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور چھاپے مارے جارہے ہیں، جلد ذمہ دار افسران کو گرفتار کیا جائے گا تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے دستاویزات فراہم کررہا ہے، سندھی مسلم سوسائٹی سے بھی ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے اور ڈی جی ایس بی سی اے، ڈائریکٹرایڈمن، ڈائریکٹر ڈیزائن سے پوچھ گچھ کی ہے۔

واضح رہے کہ سرکارکی مدعیت میں تھانہ فیروزآباد میں نسلہ ٹاور کے بلڈر عبدالقادرکاٹيلا، ایس بی سی اے، سندھی مسلم سوسائٹی، محکمہ ریوینیو کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مقدمے میں جعلسازی،دھوکہ دہی،اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت 8 دفعات کےتحت درج مقدمے میں کسی افسر کا نام شامل نہیں ہے۔

گزشتہ روز مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی ٹیم نے ایس بی سی اے،سندھی مسلم کوآپریٹیوسوسائٹی کے دفاتر پہنچ کر تفصیلات جمع کیں۔

تفتیشی ٹیم کی جانب سے ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹراسسٹنٹ ڈائریکٹر اور بلڈنگ انسپکٹر سے مرحلہ وار تفتیش کی جائے گی۔

اس سے قبل 27 دسمبر بروز پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے نسلہ ٹاور کے بلڈنگ پلان کی منظوری دینے والے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ ملوث افسران کے خلاف محکمہ جاتی اور کرمنل کارروائی کی جائے جب کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو ان افسران کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کا حکم دیا گیا۔

چیف جسٹس نے پولیس کو ملوث افسران کے خلاف الگ مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا اور آئندہ سماعت پر کرمنل کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

Tabool ads will show in this div