جعلی ڈگری کی بنیاد پربرطرف ایئرہوسٹس کی اپیل مسترد

لاہور ہائیکورٹ کے جج نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا
Dec 29, 2021
فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور ہائی کورٹ نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف ہونے والی ایئر ہوسٹس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سول کورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔

برطرف ہونے والی ایئر ہوسٹس ثمینہ سلیم قریشی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس رسال حسن سید نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار 1996 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں بطور ایئر ہوسٹس بھرتی ہوئی تھیں۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی بی اے کی ڈگری تصدیق کے لیے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی بھجوائی گئی تھی تاہم بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی نے درخواست گزار کی ڈگری جعلی اور بوگس قرار دے دی۔

ہائی کورٹ کے مطابق درخواست گزار کو 2018میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف کیاگیا جس پر انہوں نے سول کورٹ اور ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا تاہم درخواست گزار کی استدعا مسترد کی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ ائیر ہوسٹس کی پوسٹ کے لیے بی اے کی ڈگری کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ا ائیر ہوسٹس کےلیے انٹر میڈیٹ کی ڈگری مانگی گئی تھی جو جعلی نہیں ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا تھا کہ مطابق بی اے کی ڈگری غیر متعلقہ ہے لہذا اسے نوکری سے برطرف نہیں کیا جاسکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ماتحت عدالت نے درخواست گزار کے دعوؤں کو درست مسترد کیا تھا اور درخواست گزار کی اپیل حقائق کے برعکس ہے لہذا مسترد کی جاتی ہے۔

Tabool ads will show in this div