سال 2021ء میں کون سے اثاثے کتنے منافع بخش رہے؟

بٹ کوائن سب سے زیادہ منافع دینے والااثاثہ بن گیا
Dec 28, 2021

عام طور پر اخراجات سے بچ جانیوالی رقم کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے یا ایسے اثاثے خریدے جاتے ہیں جس کی قیمت بڑھنے سے فائدہ حاصل ہو۔ پاکستان میں اس مقصد کیلئے پراپرٹی خریدی جاتی ہے، شیئرز کی بھی خریداری ہوتی ہے اور بعض لوگ ڈالر، سونا اور انویسمنٹ سرٹیفکیٹ بھی خریدتے ہیں تاہم پاکستان میں روایتی اثاثوں اور سرمایہ کاری کے اس فہرست میں بٹ کوائن بھی شامل ہوگیا ہے جس نے حیرت انگیز طور پر 2021ء میں منافع دینے کی دوڑ میں پراپرٹی، شیئرز اور دیگر شعبوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

منافع دینے والے اثاثوں کے حوالے سے ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی ہے جس کے مطابق سال 2021ء میں بٹ کوائن کا منافع 87 فیصد رہا جبکہ دوسرے نمبر پر ریئل اسٹیٹ کا شعبہ رہا جو کسی وقت پہلے نمبر پر ہوتا تھا، ریئل اسٹیٹ کا قیمت بڑھنے کے لحاظ سے سالانہ منافع 23 فیصد رہا یعنی جس پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی اب وہ ایک کروڑ 23 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے متعارف کردہ روشن ڈیجٹل اکاؤنٹس کے ذریعے نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ (ڈالر) کا منافع 18 فیصد اور پاکستانی روپے میں سرٹیفکیٹ کا منافع 11 فیصد رہا، اسہ طرح جن لوگوں کے اثاثے ڈالر میں تھے ان کی دولت میں پاکستانی روپے کی قدر گرنے کے باعث 11 فیصد اضافہ ہوا اور جن کے اثاثے سونے کی شکل میں تھے انہیں 10 فیصد فائدہ ہوا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹریژری بلز میں سرمایہ رکھنے والے پاکستانیوں کو 8 فیصد اور شیئرز ہولڈرز کو صرف ایک فیصد منافع حاصل ہوا۔

واضح رہے کہ فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بٹ کوائن میں اپنے اثاثے منتقل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، بٹ کوائن میں پاکستانیوں کے اثاثے 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کی اس رپورٹ کو اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر ہیں، جس میں 3 ارب ڈالر سعودی ترقیاتی فنڈز کے بھی ہیں، اس لحاظ سے پاکستانیوں کے پاس بٹ کوائن کے اثاثے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر سے بھی بڑھ چکے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں  افراط زر کی شرح 11 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک لاکھ روپے میں جو کچھ آتا تھا اب ان چیزوں کے لئے ایک لاکھ 11 ہزار روپے درکار ہوتے ہیں یا اس کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک لاکھ روپے کی ویلیو اب ایک لاکھ روپے نہیں بلکہ 89 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

اس تناظر میں اگر مختلف شعبوں کے آمدن میں 11 فیصد نکالا جائے تو صورتحال اور مایوس کن نظر آتی ہے کیونکہ معاشی ماہرین کے مطابق آمدن میں سے افراط زر نکال کر دیکھا جائے جو بچے درحقیقت منافع وہی ہے۔ اس اصول کے مطابق پراپرٹی کا منافع 11 فیصد افراط زر نکال کر 12 فیصد آتا ہے، شیئرز ہولڈرز کو 10 فیصد نقصان ہوا ہے، ڈالر اور سونے میں اثاثے رکھنے والے کو فائدہ تو نہیں ہوا لیکن روپے میں اگر سرمایہ ہوتا تو 11 فیصد قدر گرنے کا نقصان ہوسکتا تھا، جس سے وہ محفوظ رہے۔

افراط زر کی اس شرح میں اگر کسی اثاثے نے واقعی غیرمعمولی منافع دیا ہے تو وہ بٹ کوائن ہے، جس کی قیمت سال کے ابتداء میں 32 ہزار ڈالر تھی جو نومبر میں 69 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی اور دسمبر کے آخر میں گرنے کے باجود 50 ہزار ڈالر کی سطح پر موجود رہی۔

 پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کوئی ریگولیشنز موجود نہیں ہیں لیکن ناصرف اس کی ٹریڈنگ ہورہی ہے بلکہ اب بٹ کوائن کو اثاثوں میں بھی شامل کیا جارہا ہے، اس ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حامی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس ڈیجیٹل کرنسی سے استفادہ کرے اور باقاعدہ اس کیلئے قواعد و ضوابط مرتب کرے۔

ترک حکومت نے ایک کرپٹو ایکس چینج پر 8 ملین ترکش لیرا کا جرمانہ عائد کیا ہے، کرپٹو کرنسی کے حامی ترکی حکومت کے حالیہ اقدام کا بھی حوالہ دے کر حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ پاکستان میں بغیر کسی ٹیکس کے کروڑوں روپے یومیہ ٹریڈنگ کرنے والے ایکس چینجز کو بھی ٹیکس لگاکر قومی آمدن میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس کی رپورٹ میں بھی حکومت سے کرپٹو کے حوالے سے ریگولیشنز لانے کی سفارش کی گئی ہے۔

Tabool ads will show in this div