افغانستان:مردکی سترپوشی، خواتین کی آؤٹنگ، موسیقی پر احکامات جاری 

گھروں پر چھاپوں کےحوالےسےبھی ہدایات جاری 

افغانستان کی وزارت امربالمعروف اور نہی عن المنکر نے مرد کی سترپوشی، خواتین کے اجتماع، موسیقی اور تصاویر سمیت مختلف معاملات پر احکامات جاری کردیے۔ 

اس حوالے سے وزارت امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے ہرات کے صوبائی حکام نے اعلامیہ جاری کردیا جس کے تحت فی الوقت ہرات کے شہریوں کو ان پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ 

اعلامیہ میں کہا گیا کہ کسی بھی قسم کی موسیقی کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے لہٰذا عوام اس عمل سے باز رہیں اور ایسی قبیح  چیزوں سے محظوظ ہونے کو اپنی زندگی سے نکال دیں۔ 

افغان میڈیا کے مطابق وزارت نے تصاویر کے حوالے سے بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دیواروں پر لگائی گئی تصاویر شریعت کی رو سے قبیح حیثیت کی حامل ہوتی ہیں لہذا لوگوں کو ایسا  کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ 

طالبان حکام کے مطابق محکمہ نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی قسم کی کوئی ایسی چیز جو کسی شخص کو نشہ میں مبتلا کر دے وہ حرام ہے اور لوگوں کو اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ 

گو طالبان نے خواتین کو باہر نکلنے یا پبلک مقامات آؤٹنگ کے لیے جانے سے نہیں روکا لیکن انہیں اس بات کا ضرور پابند کیا ہے کہ وہ ہوٹلوں، کافی شاپس اور اجتماع کی جگہوں پر حجاب پہن کر رکھیں۔ 

مذہب میں مرد کے جسم کچھ حصے بھی یعنی ناف سے لے کر گھٹنوں تک پردہ کی پابندی سے مستثنیٰ نہیں۔ اس حوالے سے حکام نے واضح کیا کہ مرد بھی اس کی پابندی کریں۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ جمنازیم اور کھیلوں کے اجتماعات میں عموماً ایسی باتوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے لہٰذا کھلاڑیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی کھیلوں کے دوران شریعت میں وضح کی گئی مرد کی ستر پوشی پر خاص دھیان دیں اور اس کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔ 

بغیر داڑھی والے افراد کے حوالے سے بھی اپنی پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے وزارت کے صوبائی کمانڈر انچیف نے طالبان کی صفوں سے کم سن اور بغیر داڑھی والے بالغ افراد کو نکالنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی طالب جنگجو کو عدالتی حکم کے بغیر کسی بھی فرد کو سزا دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ 

طالبان جنگجوؤں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ انہیں کسی مطلوبہ شخص کی تلاشی کے نام پر کسی کے گھر میں گھسنے اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کا حق نہیں ہے اور اگر کسی گھر میں جانا بے حد ناگزیر ہو تو پھر اس محلہ کے پیش امام و علاقہ عمائدین کو اپنے ہمراہ لے کر مطلوبہ گھر میں داخل ہوا جائے۔ 

افغانستان میں جانوروں جیسے کہ مرغ، کتے، بٹیر کی لڑائی والے کھیل بھی پسند کیے جاتے ہیں تاہم اس حوالے سے بھی حکام نے اب واضح احکامات جاری کردیے ہیں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ چوں کہ مذہب میں جانوروں کی لڑائی کروانا بھی گناہ قرار دیا گیا ہے اس لیے لوگ ایسے عمل سے گریز کریں۔ 

Tabool ads will show in this div