شمالی علاقہ جات میں سیاحتی انقلاب

سیاحتی معاشی انقلاب کیلئے کچھ تجاویز
Dec 27, 2021

سال 2021ء کے ابتداء میں میرے لئے سب سے بڑی خبر، ناران کاغان شاہراہ   پر ٹریفک جام کی ایک تصویر تھی، میں خوشی سے پاگل ہوگیا اور سوچنے لگا  کہ ن لیگ اور تحریک انصاف  کی طرف سے سڑکوں  کا جال، ملک کے شمالی علاقہ جات پر ترقی کی دستک محسوس ہوا۔

اس دستک کو خوش آمدید کہنے کیلئے ہمیں مقامی، علاقائی اور پوری دنیا سے آنے والوں کو بین الاقوامی سیاحتی انفرا اسٹرکچر فراہم کرنا ہوگا، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ مل کر ایک جامع فریم ورک مرتب کرنا ہوگا، جس سے پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے پہلی ترجیح بن جائے۔

پاکستانی ہونے کے ناطے، اس تصویر کا مجھ پر قرض ہے کہ حکومت کو ایسی تجاویز فراہم کروں، جس سے ایک جامع لائحہ عمل کی تیاری میں مدد مل سکے، ملکی شمالی علاقہ جات میں معاشی انقلاب کیلئے کچھ تجاویز تمام اسٹیک ہولڈرز کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

اول: قومی ٹورازم پالیسی، وفاق، صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان حکومتیں مل کر ایسی پالیسی  بنائیں جس کا بنیادی مقصد مجموعی قومی پیداوار میں  سیاحت کا حصہ اور مقامی آبادی کا معاشی قد بڑھانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانا ہو، اس کے ساتھ ساتھ قیمتی زر مبادلہ بھی حاصل کرنے کی کوشش ہو، پالیسی میں  ہمارے ثقافت اور مقامی مصنوعات کو بھی اجاگر کرنے پر بھی توجہ دی جائے۔

دوئم: ہوٹلنگ، ہوٹل بنانے کیلئے ملکی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو  ارزاں نرخوں پر زمین فراہم کی جائے، جو ناقابل فروخت ہو، یہ زمین ایک مخصوص مدت میں ہوٹل کی تعمیر شروع کرنے اور کاروبار شروع کرنے سے  مشرو ط ہو۔

سوئم: پاکستان ٹورازم ایپپ، ایک ایسی موبائل ایپلی کیشن جس میں کسی بھی سیاح کی گھر نکلنے سے لے کر گھر پہنچنے تک ہر ضرورت موجود ہو، ہوٹلنگ، کون سا راستہ  بہتر، کتنا وقت لگے گا،  یہ کئی زبانوں میں ہونی چاہئے، مثلاً، انگلش، عربی، چائنیز، اردو۔ زبانوں کو آنے والے سیاحوں کو مدنظر رکھ کر بڑھایا جاسکتا۔

چہارم: ڈومیسٹک ہوٹلنگ۔ لوگ اپنے گھروں میں ایک کمرا یا پورشن، کرائے پر دینا چاہیں تو ان کو ترغیب دی جائے، ٹورازم ایپ میں ان کو بھی شامل کیا جائے۔

پنجم: فوڈ اسٹریٹس کا قیام، مظفر آباد، ناران، سوات، گلگت، اسکردو میں فوڈ اسٹریٹس بنائی جائیں، جن میں مقامی اور بین الاقوامی کھانوں کے مشہور برینڈز کو دعوت دی جائے، اس میں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دوسرے بڑے شہروں کی ریسٹورنٹس کو بھی وہاں سرمایہ کاری کیلئے مدعو کیا جائے ، کاروبار کیلئے زمین مقامی حکومتیں لیز پر دیں۔

ششم: منی ایکسپو سینٹرز، ان علاقوں میں آنیوالے سیاحوں کیلئے ضلعی سطح پر منی ایکسپو سینٹرز قائم کئے جائیں، جہاں اتوار بازار طرز پر نمائشیں لگیں، علاقے کے مینوفیکچررز کو ترجیحاً اسٹال لگانے کا موقع دیا جائے، مقامی چیمبرز اور ٹی ڈی اے پی مل کر اس کو فروغ دے۔

ہفتم: انٹرنیشنل ٹورازم اینڈ ہوٹلنگ انسٹی ٹیوٹ۔ حکومت ناران کاغان کے گردو نواح میں ایک ٹورازم انسٹی ٹیوٹ قائم کرے جہاں سیاحت کے مختلف شعبوں  کے شارٹ کورسز اور گریجویشن کرائی جائے، جس سے ملکی ضروریات  کے ساتھ ساتھ عالمی سیاحت کی صنعت کو افرادی قوت فراہم کی جاسکے۔

ہشتم: مقامی موٹر ویز کا جال، شمالی علاقہ جات کو باقی ملک سے ملانے کیلئے تو انفراسٹرکچر پر کافی کام ہوا ہے، ان علاقوں کو آپس میں ملانے سے سیاحوں کے پاس تفریح کے آپشنز کئی گنا بڑھ جائیں گے، ان کی تعمیر کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ،  بی او ٹی کے آپشنز بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

الف: مظفر آباد کو ایم 15 موٹر وے سے ملایا جائے۔

ب: کشمیر کے علاقے شاردا، ناران، کاغان اور بشام سے دیر تک ممکنہ موٹر وے کی تعمیر۔

ج: گلگت بلتستان سے شروع ہونیوالی موٹر وے اسکردو، استور، چلاس، کوہستان، کالام  سے ہوکر چترال کے قریب ختم ہو۔

د:  گلگت بلتستان کے شہر اسکردو سے ہی ایک موٹر وے  شروع ہوکر گلگت، گوپس، بوئی سے ہوکر چترال تک جائے۔

ان اقدامات سے شمالی علاقہ جات کے لوگ روشن مستقبل کیلئے لاہور یا کراچی جانے کی بجائے اپنے گھروں میں رہیں گے بلکہ میدانی علاقوں کے لوگ پہاڑوں کا رخ کریں گے۔

Tabool ads will show in this div