افغانستان: سابقہ دفاعی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ 

عام معافی کے باوجود انتقامی کارروائیاں نہیں رک سکیں 

افغانستان میں طالبان کےبرسر اقتدار آنے کے بعد سے ہی ملک میں رہ جانے والے سابقہ افغان نیشنل آرمی، افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور طالبان مخالف ملیشیا گروپس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے تاہم ماہ رواں میں ان واقعات میں شدت آگئی ہے۔ 

اگرچہ افغان میڈیا میں اس وقت اس نوعیت کے خبروں کو کم ہی جگہ ملتی ہے لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر افغانستان کے صحافی وقتاً بوقتاً ایسے واقعات کی نشاندہی کررہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا گروپس سے وابستہ صحافیوں کے مطابق صرف دسمبر میں ہی افغانستان میں ٹارگٹ گلنک کے درجنوں واقعات ہوچکے ہیں۔

تین دسمبر کو ایک سابقہ ملیشیا کمانڈر نوید خان کی لاش کابل کے علاقے اکبر خان سے برآمد ہوئی جن کے لواحقین کا کہنا تھا کہ انہیں 20 روز قبل طالبان نے ان کے گھر سے گرفتار کرلیا تھا۔

دس دسمبر کو کابل میں پولیس اسپیشل فورسز کے سابق اہلکار غفار خان کو کابل پکتیا ہائی وے پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تاہم ان کے بارے میں افغان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ کسی ذاتی دشمنی کا شکار ہوئے۔

بارہ دسمبر کو ایک چیک پوسٹ پر طالبان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 6 بہنوں کے اکلوتے بھائی فیصل خان نامی شخص کو قتل کردیا گیا تاہم اس واقعہ کو طالبان حکام نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کو سزا دینے کا اعلان کیا تھا۔

پندرہ دسمبر کو زابل کے شہر قلات میں پولیس کے خصوصی یونٹ کے سپاہی بشیر احمد کے خاندان نے طالبان کی انٹیلی جنس پر ان کی گمشدگی کا الزام لگایا جو مبینہ طور پر تاحال طالبان کے تحویل میں ہیں۔ اسی روز صوبہ قندوز میں فوج کی بریگیڈ کے سابق مالیاتی افسر ہمایوں دلشاد کی لاش ملی جن کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ 5 دن سے لاپتہ تھے۔

سولہ دسمبر کو 2 ماہ سے لاپتہ ایک نجی یونیورسٹی کے وی سی سلطان محمودکی لاش غزنی کے مضافات سے ملی تھی۔ ان کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کے حراست میں تھے۔

 بیس دسمبر کو این ڈی ایس کے ایک سابق افغان سیکیورٹی آفیسر کی لاش قندھار میں اہل خانہ کو ایک ندی کے کنارے ملی۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتول ایک ماہ سے طالبان کے حراست میں تھے۔

اکیس دسمبر کو طالبان نے افغان نیشنل آرمی کے ایک سابق بٹالین کمانڈر رحمت قادری کو حراست میں لے لیا تھا جو تاحال مبینہ طور طالبان کے حراست میں ہیں۔

افغان آرمی میں شاہین کور کے ڈپٹی کمانڈر جنرل آدم خان متین کے اہل خانہ کے حوالے سے بھی یہی اطلاعات ملیں کہ عام معافی کے اعلان کے بعد سے وہ طالبان کے حراست میں ہیں اور گھر والوں کو اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر نہیں۔

ٹارگٹ کلنگ اور جرائم میں ملوث طالبان جنگجوؤں کے لیے رہنماؤں کی ہدایات

تیئس نومبر کو طالبان جنگجوؤں کے نام ایک پیغام میں افغان وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ جہاد کے شروع میں گنتی کے چند لوگ تھے لیکن اللہ کی مدد سے ہمارا مقصد کامیابی سے ہمکنار ہوا، ہمیں زیادہ نہیں بلکہ مخلص لوگوں کی ضرورت ہے۔

سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے 20 سالہ جدوجہد اور اللہ کی مدد سے ملک میں فساد کا خاتمہ کرکے قابض قوتوں کو ملک سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔

افغان وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ طالبان کے صفوں میں فسادی اور بدکرادر لوگ بھی شامل ہوئے ہیں جو اسلامی امارت کے نام کو بدنام کررہے ہیں اس لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے تاکہ ایسے فسادیوں کو تحریک سے نکالا جاسکے۔

سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمیشن وقت کی اہم ضرورت تھی اس لیے تحریک سے وابستہ تمام افراد کو ان سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے تاکہ سازشی اور فسادی عناصر سے تحریک کو پاک کیا جاسکے۔

سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ایسے لوگوں پر پردہ ڈالنے والے ساتھی تحریک کا نقصان کررہے ہیں، اس فعل سے نہ صرف عوام کا نقصان ہوگا بلکہ اللہ بھی ناراض ہوگا۔

خیال رہے کہ طالبان کے عبوری حکومت نے طالبان میں شامل غیرمتعلقہ افراد کو تحریک سے نکالنے کے لیے مفتی لطیف اللہ حکیمی کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا ہے جس نے اس حوالے سے ملک بھر میں تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

تین روز قبل کابل میں سیکیورٹی حکام سے ملاقات میں طالبان کلیئرنس کمیشن کے سربراہ مفتی لطیف اللہ حکیمی کا کہنا تھا کہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صفوں کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔

مفتی لطیف اللہ حکیمی نے مختلف صوبوں میں فوجی اور سیکورٹی حکام کو بتایا کہ نظم و نسق برقرار رکھنے کا سب سے اہم اور پہلا قدم صفوں کو پاک کرنا ہے اور امارت اسلامیہ افغانستان کسی بھی بدعنوان شخص کو نظام میں داخل نہیں ہونے دے گی۔ صوبوں کے حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں ایسے لوگوں کو تعینات کریں جو مذہب، نظام، ملک اور عوام کے وفادار ہوں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے افغان وزارت دفاع کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ کمشین نے اب تک2 ہزار افراد کی شناخت کرکےطالبان کی صفوں سے نکال دیا گیا ہے۔

افغان وزارت دفاع  کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمیشن امارت اسلامیہ کے بلدیاتی اداروں، دفاعی اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد مرکز میں متعصب، چور اور نااہل افراد کی نشاندہی کرنا تھا۔

اس سے قبل افغان 24 ستمبر کو عبوری حکومت کے وزیر دفاع بھی طالبان جنگجوؤں کو قیادت کی پالیسوں سے روگردانی پر تنبیہ کرچکے ہیں۔ ملایعقوب نے اعتراف کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں کچھ واقعات ہوئے ہیں جن میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو تین لوگوں کو انتقاماً قتل کیا گیا۔

افغان عبوری وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسلامی امارت نے عام معافی کا اعلان کیا ہے اور جب ایک دفعہ معافی کا اعلان ہوگیا تو پھر کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انتقام لے سکے اور اگر کسی کا کسی سے انفرادی تنازعہ ہے تو وہ اسے قانون کے حوالے کرے پھر اگر وہ حق پر ہوا تو سرکاری حکام اسے اس کا حق دلوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی حیثیت میں کسی کو مارنا امارت کی پالیسی نہیں اور یہ شرعی لحاظ سے بھی ناجائز ہے۔ ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات سے ہمارے بڑے مقاصد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسلامی امارات نے سابقہ حکومت کے فوجیوں، جنگی جرائم میں ملوث کمانڈرز اور ہمارے لوگوں کو شہید و ہراساں کرنے والے لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے لہذا کسی بھی مجاہد کو اب یہ حق حاصل نہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔

طالبان رہنماؤں کی ہدایات اور اعتراف اپنی جگہ مگر طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے طالبان تحریک میں شامل متعدد افراد نے عام معافی کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرکے اپنے قریبی رشتہ داروں کے قاتلوں سے انتقام کا اعلان کیا تھا۔ طالبان نے تاحال اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ حالیہ واقعات میں طالبان بطور تحریک شامل ہیں یا تحریک میں شامل چند انفرادی لوگ اس میں ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ 14 دسمبر کو جینیوا میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کی نائب کمشنر نادا الناشف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل پر طالبان کی کنٹرول کے بعد سے اب تک افغانستان میں ہونے والی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے بارے میں معتبر معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے زیادہ تر واقعات میں طالبان خود ملوث ہیں۔

نادا الناشف کا مزید کہنا تھا کہ اگست سے نومبر کے درمیان افغانستان کی سابقہ نیشنل سکیورٹی فورسز اور سابق حکومت سے وابستہ دیگر افراد کی 100 سے زیادہ ہلاکتوں میں سے کم از کم 72 ہلاکتیں طالبان سے منسوب ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے اگست میں بھی کہا تھا کہ طالبان کی طرف سے سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے قتل وغارت کا بازار گرم کرنا شروع کر دیا۔

Tabool ads will show in this div