نسلی امتیاز کیخلاف طاقتور آواز، ڈیسمنڈ ٹوٹو انتقال کرگئے

ڈیسمنڈ ٹوٹو نے 2010 میں عوامی زندفی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
Dec 27, 2021

جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف سرگرم رہنے والے نوبیل انعام یافتہ آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو 90 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

انہيں نسلی بنيادوں پر امتياز کے خلاف آواز بلند کرنے کی وجہ سے نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے 1984 میں سفید فام اقلیت کی حکمرانی کے خلاف عدم تشدد کی مخالفت کے اعتراف میں نوبل انعام جیتا تھا۔

جس کے ایک دہائی بعد انہوں نے سفید فام حکومت کے خاتمے کے بعد ایک سچائی اور مصالحتی کمیشن کی سربراہی کی، جو اس کے تحت ہونے والے مظالم کا پتہ لگانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

ڈیسمنڈ ٹوٹو نے سفید فام اقلیت کے مظالم کے خلاف کھل کر بات کی۔

جنوبی افریقہ کے صدر سرل رامافوسا نے ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں ڈیسمنڈ ٹوٹو کو قوم کی ایک غیر معمولی محب وطن شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کا نقصان واقعی ایک عالمی نقصان  ہے۔

ڈیسمنڈ ٹوٹو 7 اکتوبر 1931کو جوہانسبرگ کے مغربی علاقے میں پیدا ہوئے تھے ان کی والدہ ایک گھریلو ملازمہ تھیں جبکہ والد ایک استاد تھے۔

 وہ 1978 میں 'ساؤتھ افریقن کونل فار چرچز‘ میں پہلے سیاہ فام سیکریٹری جنرل بنے تھے جس سے  ملک میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے کوشش کرنے کا موقع ملا تھا۔

جب نیلسن منڈیلا 1994 میں جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے تو ڈیسمنڈ ٹوٹو نے ہی جنوبی افریقہ کے لیے ’رین بو نیشن‘ کی اصطلاح متعارف کروائی تھی۔

ڈیسمنڈ ٹوٹو نے 2010 میں 79 برس کی عمر میں عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔

انہیں عوامی سطح پر آخری مرتبہ رواں برس اس وقت دیکھا گیا تھا جب وہ کرونا ویکسین کے لیے ایک اسپتال گئے تھے انہوں نے وہیل چیئر سے ہاتھ ہلائے تھے مگر کوئی گفتگو نہیں کی تھی۔

امریکا کے سابق اور  پہلے سیاہ فام صدر باراک اوباما نے ڈیسمنڈ ٹوٹو کو ایک بلند پایہ شخصیت قرار دیا، انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’وہ ایک آفاقی شخصیت تھے، وہ اپنے ملک میں ہی آزادی اور انصاف کے لیے جدو جہد نہیں کرتے رہے بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی ناانصافیوں پر فکر مند رہے‘۔

Tabool ads will show in this div