سپریم کورٹ کاعسکری پارک واپس بلدیہ عظمیٰ کراچی کو دینے کا حکم

عدالت میں کور فائیو کی رپورٹ پیش

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Askari-Park-Order-Khi-Pkg-27-12.mp4"][/video]

سپریم کورٹ نے کراچی میں پرانی سبزی منڈی پر 17 ایکڑ پرمحیط عسکری پارک واپس بلدیہ عظمیٰ کراچی کو دینے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ رجسٹری میں عسکری پارک میں کمرشل سرگرمیوں اور شادی ہال بنانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں کور فائیو کی رپورٹ پیش کردی گئی جس میں بتایا گیا کہ عسکری پارک میں شادی ہالز کو بند کردیا گیا ہے۔

عسکری پارک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دفاعی ادارے کو معاہدے کے تحت پارک دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارک کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ کو پارک اس لیے دیا گیا تھا تا کہ کوئی قبضہ نہ ہو۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فوج کو پورے پاکستان کی حفاظت کرنے کا کہا گیا ہے، کیا عسکری پارک کمرشل سرگرمیوں کیلئے دیا گیا تھا؟

عسکری پارک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پارک سے کمرشل سرگرمیاں ختم کردی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی آپ سے حساب مانگ لیں گے تو آپ کیا کریں گے؟ عسکری پارک سے  ابھی تک کتنا پیسہ کمایا ہے؟

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ دیکھیں آرمی کو تنازعات سے دور رکھیں، پارک بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملکیت ہے،واپس کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی (کےایم سی) کو پارک بحال کرکے شہریوں کیلئے کھولنے کی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے کہا کہ پارک کی مکمل دیکھ بھال کی جائے اورکوئی داخلہ فیس نہ رکھی جائے۔

سپریم کورٹ نے پارک کی حدود میں قائم شادی ہال اور دکانیں مسمار کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ پارک میں نصب جھولے فوج کو واپس کرکے بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے جھولے لگائے۔

عسکری پارک سے متعلق درخواست

سپریم کورٹ میں 22 اکتوبر کو عسکری پارک سے متعلق درخواست جمع کروائی گئی تھی۔ درخواست میں بتایا گیا کہ یہ پارک 2005 میں قائم کیا گیا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پارک میں غیرقانونی دکانیں بنا کرکاروبار کیا جارہا ہے، پارک میں بازار بنانا قانون اورمعاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں بتایا گیا  کہ پارک انتظامیہ نےغیرقانونی طور پر شادی ہال قائم کردیا۔ پارک چلانے کیلئے27 ہزار درخت لگانے کا معاہدہ کیا گیا تھا لیکن پارک میں 100 درخت بھی نہیں ہیں۔ عسکری پارک کی زمین بلدیہ اعظمی کراچی کی ملکیت ہے۔

اس اراضی پر پارک قائم کرنے کے معاہدے کے وقت کراچی کور 5 کو اس پارک کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

Tabool ads will show in this div