خواجہ سعد رفیق کے پیغامات اور حکومت کے 5سال

نواز شریف کی سالگرہ پر بے باک تقریر
Dec 25, 2021

برصغیر کے مشہور شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی مشہور غزل کا اک شعر ہے۔

بَک رہا ہوں جُنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کی خطابت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جب بولتے ہیں تو سماں باندھ دیتے ہیں، پاکستان میں اس وقت موجودہ جتنے بھی سیاسی چہرے نظر آتے ہیں یا پس پردہ خاموش ہیں، ان میں سے بہت کم ہیں جو خواجہ رفیق شہید کے فرزند جیسا لب و لہجہ اور انداز بیان کی طاقت رکھتے ہوں۔

اکثر پریس کانفرنس یا کسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں میں ہوئے فیصلوں اور نجی سیاسی ملاقاتوں کے احوال کا اظہار زو معنی طریقے سے کرجاتے ہیں، جس کا پیغام ہر خاص و عام کیلئے نہیں ہوتا بلکہ جن کیلئے ہوتا ہے ان کو تیر سیدھا سینے پر جاکر ہی لگتا ہے اور سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں، جو پیغام کے خالق ہوتے ہیں وہ بھی خوش ہوجاتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سیکریٹریٹ میں قائداعظم محمد علی جناح اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سالگرہ پر 25 دسمبر کو کیک کاٹنے کیلئے اک چھوٹا سا جلسہ منعقد کیا گیا۔ حمزہ شہباز، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور دیگر لیگی رہنماؤں کی موجودگی میں خواجہ سعد رفیق نے 30 منٹ دورانیے کا خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جہاں انہوں نے کچھ پرانے رفیقوں کا نام لئے بغیر نشتر چلائے، وہیں میاں نواز شریف کو نیلسن منڈیلا ثابت کرنے کیساتھ ڈیل، ڈھیل اور آئندہ سیاسی منظرنامے کا اشارہ بھی دیا۔ ووٹ خریدنے کی زرداری کی سیاست کو بھی حرف تنقید بنایا، تحریک انصاف کو پاکستان کی سیاست میں ایک حقیقت بھی تسلیم کیا۔

اس خطاب کے کچھ اہم نکات کو بیان کرتے ہوئے ساتھ ساتھ تجزیہ بھی کرتے ہیں۔

اپنے خطاب کی تمہید انہوں نے اتحاد سے باندھی، قائد اعظم محمد علی جناح کیسا پاکستان چاہتے تھے اس کا نقشہ کھینچا۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو کچھ رگڑا اور اس کے ساتھ بڑی مہارت سے اپنی جماعت کے سیاسی کلچر کا بھانڈا بھی پھوڑا۔ وہ بولے کہ قائداعظم  نے جمہوری جدوجہد کی، ہم نے چیچک زدہ جمہوریت مسلط کردی، کھلے اور نقاب پوش مارشل لاء لگے، بنگالیوں کی تضحیک کی گئی، مجیب الرحمن کا مینیڈیٹ تسلیم نہ کیا گیا، یحییٰ خان اور ذوالفقار بھٹو کے گٹھ جوڑ نے اتحاد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکا، ساتھ ہی کہا کہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہونی چاہئے۔

پھر خواجہ سعد رفیق مارشل لاء کو کوسنے کی جانب آئے۔ بولے کہ مارشل  لاؤں کے خوف سے خاموش نہیں رہ سکتے، اس ملک میں ہر وزیراعظم کی تذلیل کی گئی، مادر ملت کو بھی سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا، پورے ملک میں جدوجہد ہوئی لیکن پنجابیوں نے جدوجہد نہیں کی، اب نواز شریف نے جدوجہد شروع کی ہے، نواز شریف کے بغض میں ملک کی بنیادیں ہلا دی گئیں، نواز شریف کو ہائی جیکر بنا دیاگیا، ہائی جیکر تو پرویز مشرف تھا جو  خود جہاز میں بیٹھا تھا۔

پاکستان میں جتھے بنانے والی قوت کا نام تو نہ لیا لیکن درپیش خطرات کے اصل ذمہ داران کو کھری کھری بھی سنائی، بولے ریاستی ادارے سب کنٹرول اپنے ہاتھ میں چاہتے ہیں، پاکستان کو اندرونی تلخیاں اور خطرات بہت ہیں، پاکستان میں جتھوں کی سرپرستی کی گئی، 10 ہزار کا جتھا جاتا ہے اور دارالحکومت کو یرغمال بنالیتا ہے، سیاستدانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں کیا وہ بھی جتھے بنائیں۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہوئی ہتک کو بھی حرف تنقید بنایا لیکن ساتھ ہی خواجہ صاحب نے اپنی اخلاقی تربیت کا ذکر بھی کردیا۔ تسلیم کیا کہ آزاد عدالتی نظام نہیں ہے، اس ملک میں انصاف نہیں کیا گیا، پسند نہ آئے تو چور ڈیکلئیر کر دیئے جاتے ہیں، توہین عدالت تو ثاقب نثار پر لگنی چاہئے، میرے ساتھ انہوں نے جو کیا وہ سب کے سامنے ہے لیکن  ثاقب نثار جب ملتے ہیں کھڑا ہوجاتا ہوں، ان کا اب بھی احترام کرتا ہوں۔

تقریر کا دلچسپ پہلو وہ تھا جس میں خواجہ سعد رفیق نے چوہدری نثار کا نام لئے بغیر ہی نواز شریف کو جمہوریت پسند، اصولوں والا اور  نیلسن منڈیلا ثابت کرنے کی کوشش کی۔

بولے کہ جتنا مرضی غداری کا فتویٰ لگانا لوگوں نے ووٹ ہم کو ہی دینا ہے، میرے جیسے بہت سے لوگ زرداری کے آخری دنوں میں کہتے تھے کہ میاں صاحب لانگ مارچ کریں، ملک کے برے حالات ہیں، پیپلزپارٹی سے لوگ تنگ ہیں، اس حکومت سے چھٹکارا دلائیں لیکن میاں نواز شریف کہتے تھے کہ لانگ مارچ سے حکومت نہیں گرانی، جس کو مینڈیٹ ملا ہے اس کے 5 سال پورے ہوں، کچھ سیاستدان پارٹی میں دوبارہ شمولیت چاہتے تھے لیکن  نواز شریف نے کہا جو روز وفاداریاں بدلتے ہیں ان کو پارٹی میں نہیں لینا۔

ساتھ ہی یہ بھی بولا کہ نواز شریف اور فضل الرحمن فیصلہ کرلیتے تو عمران خان کی کے پی میں حکومت نہیں بن سکتی تھی، نواز شریف نے کہا اکثریت عمران خان کی ہے اسی کی حکومت بنے، عمران خان، نواز شریف کا احسان نہ مانیں لیکن حقیقت تو تسلیم کریں، ہمارے ایک رہنماء نواز شریف کو کہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کا احتساب کریں، نواز شریف نے کہا کہ احتساب کرنا احتسابی اداروں کا کام ہے۔

تقریر کے اس پہلو کا تجزیہ کریں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ چوہدری نثار کی طرف اشارہ تھا؟، کہ وہ چاہتے تھے کہ پیپلزپارٹی کا احتساب ہو، اس کے علاوہ اگر نواز شریف اتنے ہی اصول پسند  لیڈر ہیں تو پھر سینیٹر مشاہد حسین سید کو اپنی پارٹی کے رہنماء کا حق مارنے پر ن لیگ کی ٹکٹ پر سینیٹر کیوں بنوایا؟، وہ بھی تو لوٹے ہی تھے، اگر اتنے ہی جمہوریت پسند ہیں تو اپنی جماعت میں آج تک انٹرا پارٹی الیکشن کیوں نہیں کروائے؟، پارٹی عہدوں پر سلیکشن ہی کیوں کی جاتی ہے؟۔

خواجہ سعد رفیق نے اپنی تقریر کو سمیٹا اور مستقبل کی تصویر کھینچی، نواز شریف کو بھی پیغام رساں کا پیغام دیا کہ ایسا مان لیں تو سب معاملہ حل ہوسکتا ہے جبکہ دوسری جانب پلٹا کھاتے ہوئے نواز شریف کیا سوچتے ہیں وہ بھی پیغام آگے پہنچادیا۔

بولے کہ مطلب کے لوگوں کو ڈی جی نیب لگانے کا دھندا چھوڑ دیں، پیپلز پارٹی کی پنجاب میں ری برتھ ہونی چاہئے لیکن این اے 133 والا ماڈل یعنی ووٹ خریدنے کا طریقہ نہیں چلے گا، اسکور سیٹنگ سے ملک آگے نہیں چلے گا، ن لیگ کو اپنا بدلہ چھوڑنا پڑے گا، سب مل کر جمہوریت کی حفاظت کریں۔

خواجہ سعد رفیق کے زومعنی خطاب سے یہی نقشہ بنتا دکھائی دے رہا ہے اور ایمپائر کی سوچ کی عکاسی بھی ہوتی ہے وہ کیا سوچ رہا ہے؟، بہت ضروری ہوا تو قبل از وقت انتخابات نہیں تو 5 سال ایک ڈاکٹرائن کے مطابق ہر حکومت کو پورے کرنے ہیں، نواز شریف کی سرشت میں بدلاؤ ہے، اگر معاملات طے پاجاتے ہیں اور ن لیگ کو پاور شیئرنگ میں اہم کردار مل جاتا ہے تو نواز شریف کے ساتھ جنہوں نے سب کیا، ان کے ساتھ دوستی کرنی ہے، پرویز مشرف جیسی مہم جوئی کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی۔

رہی مارچ میں لانگ مارچ کی بات یا عمران حکومت کا خاتمہ تو ہماری رائے میں پچھلے دو جمہوری ادوار کے آخری 2 سال کے سیاسی حالات اور کشمکش کو سمجھنا ضروری ہے۔ مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں امریکی اسٹنگ آپریشن میں اسامہ بن لادن کی شہادت کے بعد مشہور زمانہ میمو گیٹ اسکینڈل آیا، صدر زرداری اچانک دبئی چلے گئے، اقتدار کے ایوانوں میں چہ مگوئیاں ہوئیں کہ حکومت آج گئی کہ کل گئی لیکن کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا ماجرا ہوا۔

پریشر کم ہوا تو زرداری صاحب کو ایک اور اتحادی یعنی ق لیگ نے سہارا دیا، کل کی قاتل لیگ آج کی دوست بن گئی، چوہدری پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر براجمان ہوگئے۔ توہین عدالت کے مرتکب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہوئے اور ان کو گھر جانا پڑا اور ان کی جگہ پیپلزپارٹی کے راجا پرویز اشرف وزیراعظم بن گئے، پیپلزپارٹی نے 5 سال پورے کئے۔

اس کے بعد 2013ء میں ن لیگ کی حکومت بنی۔ عمران، قادری 2014ء کا دھرنا ہوا، نواز شریف کا دھرنا کچھ بگاڑ نہ سکا تاہم 2016ء میں پانامہ آگیا، یعنی ن لیگ کی حکومت ختم ہونے کے 2 سال پہلے، 2017ء میں نواز شریف بھی پاناما کیس میں صادق و امین نہ رہے اور سزا پاکر نااہل ہوئے، لیکن ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بن گئے اور ن لیگ نے 5 سال مدت پوری کی۔

تبدیلی سرکار کی حکومت کو بھی 3 سال ہو چکے 2 سال باقی ہیں، اپنی اپنی بساط میں سب کھلاڑی مگن ہیں، تصور کر بھی لیا جائے مائنس عمران خان، تو پھر بھی تسلسل چلنا ہے۔

کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند

کس کی حاجت روا کرے کوئی

Tabool ads will show in this div