ناموس رسالت:عمران خان کا روسی صدرکےبیان کاخیرمقدم 

 یہ میرے ہی مؤقف کی تائید ہے،وزیراعظم 

وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خود ان کے مؤقف کی تائید ہے کہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی آزادی رائے نہیں۔ 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا سے مقابلے کے لیے اس پیغام کوغیرمسلم لیڈرز تک پہنچانا چاہیے۔ 

دوسری جانب روسی صدر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن کا یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اظہارِ رائے کی آزادی نہیں عالم اسلام کے اس موقف کی تائید ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ کی حرمت و تقدس آفاقی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ بیان پر ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔   

 دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اسلامو فوبیا کے خلاف امت مسلم کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کیا جس کی وجہ سے اب پیوٹن جیسے عالمی رہنما بھی اس مسئلے پر دو ٹوک رائے دے رہے ہیں۔ 

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مخالفین کہتے تھے کہ عمران خان کی تقریروں سے کیا ہوتا ہے مگر عالمی ایوانوں میں اسلاموفوبیا کے خلاف آوازیں انہی تقاریر پر مہرلگارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں رحمۃ للعالمین اتھارٹی قائم کی جبکہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے اقدامات کیے گئے۔ 

واضح رہے کہ ماسکو میں سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھا کہ پیغمبر اسلام  حضرت محمد ﷺ کی توہین کو اظہار رائے کی آزادی شمار نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ عمل مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروع ہوتے ہیں۔ 

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں سے انتقامی کارروائیاں جنم لیتی ہیں جس کی ایک واضح مثال پیرس میں چارلی ہیبڈو میگزین کے دفتر پر حملہ ہے۔ 

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آزادی اظہار کی الگ تعریف اور حدود ہیں اوراس کے نام پر لوگوں کے نظریات کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس کے عوام ایک دوسرے کی روایات کا احترام کرتے ہیں۔   

Tabool ads will show in this div