کراچی: گیس بحران نےگھروں کے چولہے ٹھنڈےکردیے 

پانی،بجلی کی قلت جھیلنےوالےاب گیس سےبھی محروم 

کراچی کے عوام کے لیے تمام ہی موسم امتحان کے ہيں، جہاں گرميوں ميں پانی اور بجلی نہيں ملتی، برسات ميں شہر ميں سيلاب جيسی صورتحال پيدا ہوجاتی ہے وہیں اب سرديوں ميں گيس کا ناپید ہونا ایک نیا امتحان بن گيا ہے۔ 

کراچی ميں سردہوائيں چلتے ہی گيس پريشر پر ايسی کپکپی طاري ہوئی کہ اس نے چولہوں اور گیزروں ميں آنے سے ہی انکار کرديا ہے۔ 

سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے صنعتوں کو گیس کی فراہمی بند کرنے سے بھی گھريلو صارفين کو کوئَی فائدہ نہيں پہنچ سکا بلکہ پریشانی مزید بڑھ چکی ہے۔ 

ایک خاتون خانہ کا کہنا ہے کہ گيس آتی نہيں ہے، مہمانوں کا معاملہ تو اور ہی ہے یہاں تک کہ محض گھر والوں کے لیے بھی باہر سے کھانا منگوانا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کام سے واپسی پر روٹیاں لے کر آتے ہیں کیوں وہ بھی اب گھر میں بن سکتیں۔ 

گيس بحران ميں صرف خواتين کے مسائل نہيں بڑھے بلکہ مردوں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں ہیں۔ اس حوالے سے ایک شہري 

نے کہا کہ نوکری سے واپس آتے ہيں تو گھر والے مطالبہ کرتے ہیں کہ روٹیاں بھی ساتھ لیتے آؤ جو کام سے تھکے ہارے لوٹنے والے مردوں کے لیے بڑا پریشان کن ہوتا ہے۔ 

ہوٹل سے کھانامنگوانامستقل حل نہيں اس لیے متوسط طبقے ميں گيس سلينڈر کا استعمال معمول بن گيا ہے حالاں کہ عوام یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کا استعمال جیب پر تو بھاری پڑتا ہی ہے لیکن کبھی کبھار جان بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ 

ایک خاتون کا کہنا ہے کہ گھر میں گیس دستیاب نہیں اس لیے مجبوراً سلينڈر لیا ہے لیکن یہ سب ہی خصوصاً بچوں کے لیے خطرناک ہے۔ 

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر کوئی نہ تو گیس سلینڈر کا خرچہ اٹھا سکتا ہے اور نہ روزانہ ہوٹل سے کھانا منگوانے کی مالی سکت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے بعض خواتین کا یہی کہنا ہے کہ سلينڈر بہت مہنگا ہے کہاں سےخريديں گے اور کھانا بھی ہوٹل سے خریدنا مہنگا پڑتا ہے۔ 

ریائشی علاقوں ميں گيس کی عدم فراہمی نے ہوٹلوں پر گاہکوں کا ہجوم بڑھا ديا ہے مگردکاندار بھی اپنی ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔ 

دکانداروں کا کہنا ہے کہ گيس 240 روپے فی کلو ہے اس لیے آج کل زیادہ بکری کے باوجود بچت بالکل نہيں ہو رہی بس گزارا ہو رہا ہے۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ انہیں روزانہ 10 ہزار روپے کے گیس سلینڈر لینے پڑتے ہیں۔ 

ڈيفنس سےسرجانی ہو یا کيماڑی سے ملير، گيس کی آنکھ مچولی تو ہر جگہ ہے ليکن شہرميں کچھ ايسےخوش نصيب علاقے بھی ہيں جہاں گيس بحران کا نام و نشان نہيں ہے۔ ایسے چند علاقوں میں گلشن اقبال 13 ڈی اور بلاک 14 بھی شامل ہیں جہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں گیس نہیں جاتی۔ گویا ایسے لوگوں کی زندگی آج کل 'مزے میں' گزر رہی ہے۔ 

شہری گيس کی عدم فراہمی سے مشکل ميں ہيں ليکن سوئی سدرن گيس کمپنی کا دعویٰ ہےکہ پريشر ميں کمی کا مسئلہ ضرور ہے تاہم گیس کی کوئی لوڈشيڈنگ نہيں کی جا رہی۔ 

Tabool ads will show in this div