الیکٹرانک ووٹنگ مشین کامعاملہ، دباؤ نہ ڈالا جائے، الیکشن کمیشن

واضح خصوصیات طے کریں مشینیں لے لیں، شبلی فراز
Dec 24, 2021

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر کام میں مداخلت نہ کی جائے، حکومت تجربے کیلئے 50 مشینیں بھی نہیں دے رہی۔ وفاقی وزیر شبلی فراز کہتے ہیں کہ واضح خصوصیات طے کریں، مشینیں لے لیں۔

وفاقی حکومت نے 2023ء میں عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کروانے کا اعلان کیا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر حکومت اور الیکشن کمیشن پھر آمنے سامنے آگئے۔

ترجمان ای سی پی کا کہنا ہے تجرباتی استعمال کیلئے 17 دسمبرکو ووٹنگ، گنتی اور دوبارہ گنتی کی خصوصیات کی حامل 50 مشینیں مانگی گئیں، لیکن تاحال خط کا کوئی جواب ہی نہیں ملا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ای وی ایم پر ہمارے کام میں مداخلت نہ کی جائے، کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معیار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تیسرے فریق سے ٹیسٹنگ ضروری ہے۔

دوسری جانب ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا کمیشن تو مشین کی درکار خصوصیات بتانے کو ہی تیار نہیں، الیکشن کمیشن بتائے کون سی مشین چاہئے اور اس میں کیا ہونا چاہئے، جو مشین ہم نے بنائی ہیں وہ چاہئے تو ہم تیار ہیں۔

شبلی فراز نے  قانون بننے کے ایک ماہ بعد بھی اس پر عملدرآمد شروع نہ ہونا تشویشناک قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ای وی ایم پر کرانے کا ہدف ہے، الیکشن کمیشن کی کوتاہی سے تاخیر ہوئی، بڑی مشکلات ہوں گی۔

وفاقی وزیر نے توقع ظاہر کی کہ ای سی پی ٹیکنیکل ٹیم ایک ہفتے میں ای وی ایم کی خصوصیات طے کرکے ٹینڈر جاری کردے گی، وفاقی وزیر نے ای سی پی سے متعلقہ کمپنیوں کو یکساں مواقع دینے کا مطالبہ بھی کردیا۔