ایک ہفتےمیں زرمبادلہ کےذخائر میں 41.5کروڑ ڈالرکی کمی

بیرونی قرضوں کی ادائیگی ذخائر میں کمی وجہ بنی
Dec 24, 2021
DOLLAR-ART-RUPEE-1

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے میں 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔

اسٹیٹ بینک سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق 10 دسمبر کو اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 18.56 ارب ڈالر تھے جو 17 دسمبر کو کم ہوکر 18.15 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔

اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر 63 کروڑ ڈالر ہیں جس میں سے کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 6.47 ارب ڈالر ہیں۔

ذخائر میں کمی بنیادی طور پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی، ملک کا بیرونی کھاتہ بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی اور بڑھتے ہوئےکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے دوہرے دباؤ کا شکار ہے۔

بیرونی قرضے

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں 4 ارب 57 کروڑ ڈالر کا قرض لے چکی ہے۔

اقتصادی امورڈویژن کی بیرونی مالی معاونت سے متعلق رپورٹ کے مطابق حکومت جولائی تا نومبر تک قرض بجٹ اسپورٹ، محتلف منصوبوں اور پروگراموں کیلئے 4 ارب 57 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرض لے چکی ہے۔

کرنٹ اکاونٹ خسارے میں اضافہ

اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا نومبر کرنٹ اکاونٹ خسارہ 5  ارب 17 کروڑ سے بڑھ کر 7 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا جبکہ گزشتہ سال اسی دوران خسارہ ایک ارب 64 کروڑ ڈالر تھا۔

تفصیلات کے مطابق خسارہ ابتدائی پانچ ماہ میں ہی ہدف سے 4 ارب 81 کروڑ ڈالر بڑھ گیا، اس مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارے کا ہدف 2 ارب 27 کروڑ ڈالر ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ درآمدات میں اضافے نے بڑھتی برآمدات اور ترسیلات زر میں بہتری کے ‏فوائد کم کر دیئے عالمی مارکیٹ میں بڑھتی اجناس کی قیمت اور مقامی طلب بڑھنے پر درآمدات ‏میں اضافہ کردیا۔

واضح رہے وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جولائی تا نومبر درآمدات کا حجم 32 ارب 90 کروڑ ڈالر رہا اس کے برعکس برآمدات کا جحم 12 کروڑ 34 کروڑ ڈالر تھا۔

جس سے کے نتیجے میں ابتدائی پانچ ماہ میں تجارتی خسارہ 20 ارب 59 کروڑ ڈالر تک جاپہنچا جو کہ گزشتہ سال اسی دوران ہونے والے تجارتی خسارے سے 112 فیصد زیادہ ہے۔

Tabool ads will show in this div