پاکستان میں بھنگ کی پہلی قانونی فصل تیار   

بھنگ سےتیارمصنوعات منشیات سےزیادہ منافع بخش 

 

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/FIRST-HEMP-CROP-HARVESTING-ISB-PKG-23-12.mp4"][/video]

روات کے ایک پروڈکشن یونٹ میں پاکستان میں بھنگ کی پہلی قانونی فصل کی کٹائی کا افتتاح کر دیا گیا۔ 

روات میں ایک ایکڑ پر کاشت کی گئی بھنگ کی خوشبو دار فصل کی پکنے کے بعد سرکاری طور پر کٹائی کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنگ کی فصل سے کپاس پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان کو زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوگا۔  

مہمان خصوصی وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کا کہنا ہے کہ بھنگ کے بیج کے پی، بلوچستان اور گلگت سے لائے گئے تھے۔  

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اس کی کاشت اگست میں کی گئی تھی اور اس کی مسلسل مانیٹرنگ کی گئی، یہ بات خوش کن ہے کہ تجربہ کامیاب رہا۔ انہوں ںے کہا کہ اس میں ہم نے 4 مختلف اقسام کی بیچ لگائی تھیں، ایک لوکل، ایک اسکردو، اور ایک بلوچستان اور ایک خیبرپختونخوا سے ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھنگ دواؤں میں استعمال کی جائےگی ، وقت کے ساتھ پیداوار اور کمائی بڑھے گی، ہیمپ اکانومی عالمی سطح پر ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے، اس پودے کی جڑ سے میڈیسن بنتی ہے، پتوں سے سی بی ڈی ائل نکلتا ہے جبکہ تنے سے ٹیکسٹائل کا فائبر بنتا ہے۔ 

ماہرین کے مطابق یہ میڈیسنل بھنگ ہے اور اس میں نشہ آور عنصر اس طرح نہیں ہوتا، سی بی ڈی کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم اس سے شفاء بخش خصوصیات کا حامل تیل کشد کرتے ہیں۔ سرکاری حکام بھنگ سے بننے والی مصنوعات  کو منشیات سے زیادہ منافع بخش قرار دیتے ہیں۔  

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند برسوں میں عالمی مارکیٹ کی ہیمپ اکانومی میں 35 فیصد تک اضافہ ہوگا اس لیے پاکستان کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکے۔ 

Tabool ads will show in this div