الیکشن کمیشن نےفوادچوہدری،اعظم سواتی کی معذرت قبول کرلی

دونوں وزراء کو آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Sawati-Fawad-Apologies-ECP-Isb-Pkg-22-12.mp4"][/video]

الیکشن کمیشن پر الزامات کے کيس ميں کمیشن نے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی معذرت قبول کرلی اور ساتھ ہی دونوں وزرا کو آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، جہاں الیکشن کمیشن میں سندھ کے ممبر نے وزرا کی جانب سے اداروں کو بُرا بھلا کہنے پر شکوہ کیا تاہم وزرا کے معافی مانگنے پر انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

وزیرریلوے نے الیکشن کمیشن کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں ای وی ایم کے حوالے سےاچھے فیصلوں کی امید کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ای وی ایم آئی ووٹنگ کے اوپر پاکستان کی جمہوریت کا مستقبل وابستہ ہے، الیکشن کمیشن اور حکومت کے درميان خلیج نہيں چاہتے۔

وکیل اور حکومتی سینیٹرعلی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے معذرت کرنا کوئی کمزوری کی بات نہیں،  الیکشن کمیشن کا وقار اونچا کرنا ایک شہری کی ذمہ داری ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے 16 ستمبر کو جاری نوٹسز میں فواد چوہدری اور اعظم سواتی سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف لگائے گئےالزامات کی حمایت میں ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ منگل 16 نومبر کوالیکشن کمیشن میں پیش ہوکر فواد چوہدری نے اپنے بیان پر معافی مانگی تھی۔ الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ دینے کی ہدایت کی تھی۔ الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ادارے کا بہت احترام ہے اور کسی شوکاز کےچکر میں نہیں پڑنا چاہتا،بطور وزیراطلاعات حکومت اور کابینہ کا ترجمان ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنرکا بہت احترام کرتا ہوں، وکیل ہوں اورکبھی عدالتوں سےجھگڑا نہیں ہوا جب کہ بہت سے بیان میرے نہیں ہوتے۔انھوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن میں تحریری معافی نامہ نہیں دوں گا کیوں کہ ذاتی حیثیت میں معذرت کرچکا ہوں۔ اگر الیکشن کمیشن کوتحریری معافی نامہ چاہیے تو وفاقی کابینہ سے لے لے۔ واضح رہے کہ 3 ماہ قبل حکومت کی جانب سےالیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کے فیصلے اوراس پر اپوزیشن کے ساتھ الیکشن کمیشن کےاعتراضات کے بعد سامنے آنے والا تنازع اس وقت طول پکڑ گیا تھا جب 10 ستمبر کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔
اس ہی دن شام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر ’اپوزیشن کے آلہ کار‘ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن،اپوزیشن کے ہیڈکوارٹرز میں تبدیل ہوگیا ہے۔وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعظم سواتی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق بہت سی باتیں صیغہ راز میں ہیں لیکن انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر حکومت کو ’کڑوی گولی‘ کھانی پڑی تاکہ آئینی ادارے کی ساکھ کو بحال رکھا جاسکے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اس ادارے کو تباہی سے بچانا ہوگا، کیا الیکشن کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم رکھنا چاہتا ہے؟۔

 وزیرِ ریلوےاعظم سواتی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن پر برہم ہوئے تھے۔ اعظم سواتی نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے کا باعث ہے۔

اعظم سواتی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی کرتا رہا ہے۔ اعظم سواتی کے الزامات پر قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس سے الیکشن کمیشن کے ارکان نے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔

Tabool ads will show in this div