سندھ کی وفاق سے 6مفرور ڈی آئی جیزکوسزا دینےکی اپیل

ڈی آئی جی افسران کےمطابق انہوں نے قوانین پرعمل کیا
[caption id="attachment_2473557" align="alignnone" width="800"]CM Sindh Meeting فائل فوٹو[/caption]

سندھ حکومت نے پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پیز) رینک کے 6 افسران کے خلاف مفرور ہونے کے الزامات کے تحت ابتدائی کارروائی شروع کر دی۔

سندھ سروسز جنرل، ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ (ایس جی اے اینڈ سی ڈی) نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سندھ اکاؤنٹنٹ جنرل، سندھ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) اور ایس جی اے اینڈ سی ڈی سروس 2 ایڈیشنل سیکریٹری کو مشترکہ خطوط لکھے ہیں تاکہ پولیس رولز 1934 کے چیپٹر 14.11 اے کے تحت ڈی آئی جی پی رینک کے 6 پی ایس پی افسران کو سزا دی جائے۔

پولیس رولز 1934 کا چیپٹر 14.11 اے ایک مفرور پولیس افسر کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار واضح کرتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھے گئے خط میں سندھ ایس جی اے اینڈ سی ڈی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی ایس پی افسران نے سندھ حکومت جس کیلئے وہ کام کر رہے ہیں، کی اجازت کے بغیر اپنے عہدوں کے چارجز چھوڑ دیئے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پی ایس پی افسران نے پوسٹیں چھوڑ کر سندھ پولیس ایکٹ 2019 کے آرٹیکل 116 کی خلاف ورزی کی، یہ لوگ پولیس رولز 1934  کے چیپٹر 14.11 اے کے تحت سزا کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

سندھ پولیس ایکٹ 2019 کا آرٹیکل 116 بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی پولیس افسر اپنے دفتر کے فرائض سے اس وقت تک دستبردار نہیں ہوگا جب تک کہ ضلعی پولیس کے سربراہ یا اس طرح کی اجازت دینے کے مجاز کسی دوسرے افسر کے ذریعے تحریری طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

سندھ اکاؤنٹنٹ جنرل کو لکھے گئے خط میں ایس جی اے اینڈ سی ڈی نے درخواست کی ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ریلیف آرڈر جاری ہونے تک پولیس افسران کو آخری تنخواہ کا سرٹیفکیٹ (ایل پی سی) جاری نہ کی جائے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ اور ایس جی اے اینڈ سی ڈی سروس 2 کے ایڈیشنل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں ایس جی اے اینڈ سی ڈی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے ڈیوٹی جاری رکھنے کی ہدایت کے باوجود پولیس افسران نے اپنے عہدوں کے چارجز چھوڑ دیے، خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی، وزیراعلیٰ سندھ نے اس بدانتظامی کو پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ (پی ای آر) میں مفرور پی ایس پی افسران کی حیثیت سے ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس معاملے میں درحقیقت ہوا کیا تھا؟

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت کی روشنی میں سندھ ایس جی اے اینڈ سی ڈی نے 29 نومبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا اور پی ایس پی کے 7 افسران کو ہدایت کی کہ وہ اگلے حکم تک چارج سے دستبردار نہ ہوں، ایس جی اے اینڈ سی ڈی نے مزید ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے۔

یہ ہدایات بی پی ایس 20 کے 7 پی ایس پی افسران کو جاری کی گئیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 11 نومبر 2021ء کو روٹیشن پالیسی 2020ء کے تحت سندھ سے باہر منتقل کیا تھا، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جن افسران کا تبادلہ کیا تھا ان میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد، اسپیل برانچ کے ڈی آئی جی پی نعیم احمد شیخ، سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروس (ایس اینڈ ای) ڈویژن کے ڈی آئی جی پی لیفٹیننٹ ریٹائرڈ مقصود احمد، کراچی ساؤتھ زون کے ڈی آئی جی پی جاوید اکبر ریاض، کراچی ایسٹ زون کے ڈی آئی جی پی ثاقب اسماعیل میمن، کریمنل انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈی آئی جی پی محمد نعمان صدیقی اور ڈی آئی جی پی عبداللہ شیخ جو روٹیشن پالیسی 2020ء کے تحت سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں پوسٹنگ کا انتظار کررہے ہیں، شامل ہیں۔

سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد کا تبادلہ کرکے ان کی خدمات بلوچستان پولیس کے سپرد کردی گئیں، اسپیشل برانچ کے ڈی آئی جی پی نعیم احمد شیخ، ایس اینڈ ای ڈویژن کے ڈی آئی جی پی لیفٹیننٹ ریٹائرڈ مقصود احمد اور کراچی ساؤتھ زون کے ڈی آئی جی جاوید اکبر ریاض کی خدمات حکومت پنجاب کو دی گئیں جبکہ کراچی ایسٹ زون کے ڈی آئی جی پی ثاقب اسماعیل میمن، ڈی آئی جی پی سی آئی اے محمد نعمان صدیقی اور ڈی آئی جی پی عبداللہ شیخ کی خدمات حکومت خیبرپختونخوا کے حوالے کردی گئیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایات کے بعد پی ایس پی کے 6 افسران نے اپنے چارجز چھوڑ دیئے ہیں، سوائے ایس اینڈ ای ڈویژن کے ڈی آئی جی پی لیفٹیننٹ ریٹائرڈ مقصود احمد جنہوں تاحال اپنے عہدے پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔

پی ایس پی افسر نے وفاداریاں تبدیل کیوں کیں؟

سندھ سروسز جنرل، ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ (ایس جی اے اینڈ سی ڈی) نے 15نومبر 2021 کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا جس میں دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے سول سروس آف پاکستان (کمپوزیشن اینڈ کیڈر) رولز1954 کی خلاف ورزی کی ہے۔ سندھ حکومت کے دعوے کے مطابق وفاقی حکومت نے سول سروس آف پاکستان (کمپوزیشن اینڈ کیڈر) رولز، 1954 کے رول 15 (1)، 15 (4) اور 15 (5) کی خلاف ورزی کی ہے جس میں پی ایس پی/پی اے ایس کی تقرری یا واپسی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔

سندھ کے ایس جی اے اینڈ سی ڈی نے مشاہدہ کیا کہ بمعنی مشاورت کے بغیر پی ایس پی/پی اے ایس افسران کے تبادلوں کے معاملات نے زور پکڑا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مشاورت کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسیاں قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرتی ہیں۔

اس حوالے سے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو آگاہ کیا گیا کہ پی پی ایس 20 کے افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا معاملہ سندھ کابینہ میں زیر بحث آئے گا اور مقررہ مدت میں سندھ حکومت کے فیصلے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا جائے گا جوکہ سول سروس آف پاکستان (کمپوزیشن اینڈ کیڈر) رولز1954 کے 15 (5) میں بتایا گیا ہے۔

سندھ کے ایس جی اے اینڈ سی ڈی کے خط کے جواب میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 18نومبر کو ایک جوابی خط لکھا جس میں سندھ حکومت کو بتایا کہ پی ایس پی/پی اے ایس افسران کے تبادلے اور تقرری سے متعلق چیف سیکریٹری سندھ اور سندھ کے ایس جی اے اینڈ سی ڈی کے ساتھ روٹیشن پولیس کے تحت تین مرتبہ مشاورت کی گئی۔

خط میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یاد دلایا کہ گزشتہ 10 سال سے ایک ہی صوبے میں خدمات انجام دینے والے پی ایس پی/پی اے ایس افسران کی فہرست 31 دسمبر 2020 کو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کی گئی تھی جبکہ ڈویژن نے پی ایس پی کے ناموں کو شارٹ لسٹ کرنے کی درخواست کی تھی جنہیں پہلے مرحلے میں تبدیل کیا جائے گا، لیکن حکومت سندھ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اسی طرح، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 2مارچ 2021 کو دوسرے اور تیسرے مرحلے میں تبدیل کیے جانے والے افسران کی فہرست تینوں صوبوں کے ساتھ شیئر کی تھی جس میں افسران کے نام بھی شامل کیے گئے تھے، روٹیشن پالیسی کے دوسرے مرحلے کا ذکر اس فہرست میں کیا گیا تھا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دعویٰ کیا کہ روٹیشن پالیسی کے تحت دوسرے اور تیسرے مرحلے میں تبدیل کیے جانے والے افسران کے نام اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیے گئے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ اسکے علاوہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سندھ حکومت سے درخواست کی تھی کہ پی ایس پی/پی اے ایس افسران کو انکی موجودہ ذمہ داریوں سے فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ انہیں نئی جگہ پر تعینات کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے 23نومبر2021 کو وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں پی ایس پی/پی اے ایس افسران کے تبادلے اور تعیناتی سے متعلق صوبائی حکومت کا قانونی موقف شیئر کیا۔

خط میں، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو بتایا کہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے سول سروس آف پاکستان (کمپوزیشن اینڈ کیڈر) رولز 1954 میں سال 2014 تک وقتاً فوقتاً ترمیم کی جاتی رہی ہے، لیکن وفاقی حکومت نے 2020 میں یکطرفہ طور پر روٹیشن پالیسی کے تحت پی ایس پی/پی اے ایس افسران کے تبادلے اور تعیناتی سے متعلق سول سروس آف پاکستان رولز 1954 میں ترمیم کی۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو بتایا کہ سندھ حکومت ترمیم کو چیلنج کرنے کا آئینی حق محفوظ رکھتی ہے۔ تاہم، یہ اس خط کا مقصد نہیں ہے۔

خط میں وزیراعلیٰ سندھ نے سول سروس آف پاکستان رول 1954 کے رول 15 اور ذیلی شقوں 15 (1)، 15 (2)، 15 (3)، 15 (4) اور 15 (5) کا ذکر کیا اور کہا کہ پی ایس پی/پی اے ایس افسران کے تبادلے اور تعیناتی سے قبل وزیراعظم کو صوبے کے وزیراعلیٰ سے ضرور مشورہ کرنا چاہیئے۔ رول 15 کے 15 (5) کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اس شق کے تحت، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعظم کو جواب دینے سے پہلے کابینہ سے منظوری لیں۔

خط میں وزیراعلیٰ سندھ نے سول سروسز آف پاکستان رولز 1954 کے رول 7 (1) کا بھی ذکر کیا اور وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو تمام کیڈرز کے پی ایس پی/پی اے ایس افسران کی کمی کو دور کرنے کی ہدایت کریں۔

بہرحال، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 23 نومبر کو پی ایس پی افسران کو خطوط لکھے ہیں، جنہیں چارج چھوڑ کر نئی جگہ تعینات ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ عدم تعمیل پر وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔ پی ایس پی افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ تبادلے کے احکامات کی عدم تعمیل کے حوالے سے وضاحت جاری کرنے کے سات دن کے اندر اپنے موقف کی وضاحت کریں تاکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اس معاملے میں مزید ضروری کارروائی کر سکے۔

اگلے مرحلے میں اب کیا ہوگا؟

ڈی آئی جی پی محمد نعمان صدیقی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ انہوں نے ضلع شرقی کراچی کے سابق ڈی آئی جی پی ثاقب اسماعیل میمن اور ڈی آئی جی پی عبداللہ شیخ کے ساتھ 27 نومبر کو خیبر پختونخوا حکومت کو رپورٹ کیا ہے جبکہ سندھ ایس جی اے اینڈ سی ڈی نے 29 نومبر کو تعمیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

محمد نعمان صدیقی نے واضح کیا کہ وہ اور پی ایس پی افسران، وفاقی حکومت کے ملازم ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روٹیشن پالیسی کے پہلے مرحلے میں سندھ سے باہر ٹرانسفر کیے جانے والے پانچ پی ایس پی افسران نے اپنے تبادلے کو روکنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، لیکن عدالت نے ان کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مالک اور ملازم کے درمیان کا معاملہ ہے۔

نعمان صدیقی نے واضح طور پر کہا کہ ’ہم وفاقی حکومت کے ملازم ہیں اور ہمیں ان کی ہدایات پر عمل کرنا ہی ہوگا‘۔

Tabool ads will show in this div