سانحہ سیالکوٹ: ایسے واقعات کی تعلیمات اسلام میں نہیں،مولاناطارق جمیل

ظالم اپنے انجام کو پہنچیں گے
Dec 22, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/tariq-jameel-.mp4"][/video]

پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات کی تعلیمات اسلام میں نہیں ہیں اور وہاں بہت بڑا ظلم ہوا جبکہ ظالم اپنے انجام کو پہنچیں گے۔

 اسلام آباد میں پاکستان علمائے کونسل کے سربراہ اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہراشرفی اور مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے سری لنکن ہائی کمیشن جا کر سانحہ سیالکوٹ میں قتل ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی موت پر اظہار تعزیت کیا۔

سری لنکن ہائی کمیشن کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل اور حافظ طاہر اشرفی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔

مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب لوگ سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مار رہے تھے تو انہوں نے کہا تھا میں کلمہ پڑھ لیتا ہوں لیکن مجھے نہ ماریں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام اس طرح کی تعلیمات نہیں دیتا اورسیالکوٹ میں بہت بڑا ظلم ہوا ہے،ظالم اپنے انجام کو پہنچیں گے۔

مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میں بیس پچیس سال سے محبت کا پیغام دے رہا ہوں اورمیرا کام یہ پیغام پہنچانا ہے۔

مولانا طارق جمیل نےمزید کہا کہ اسلام کا نام سلامتی ہے اور ایمان کا مطلب امن ہے، اسلام محبت کا درس دیتا ہے اور حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سود کھانے والا شدید سزا کا حقدار اور بے گناہ کو قتل کرنے والا سزا کا مستحق ہے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو زندہ جلادے۔

 مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ سری لنکن سفیر کوکہا ہے کہ ہم اس واقعے پر معافی مانگنے آئے ہیں اورسری لنکا سے اس واقعے پرشرمندہ ہیں۔

اس موقع پر حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہاتھ جوڑ کر سری لنکا کے عوام سے اس واقعے پرمعافی مانگتے ہیں، اس واقعے پر پوری قوم رنجیدہ ہے، اسلام میں اس طرح کی انتہاپسندی کی بلکل گنجائش نہیں ہے۔

حافظ طاہراشرفی نے کہا کہ سیالکوٹ کی فیکٹری نے مقتول شہری پریانتھا کمارا کے 2 بچوں کے تمام اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اس فیکٹری میں سری لنکا کے ایک شہری کونوکری بھی دی گئی ہے۔

سری لنکن ہائی کمشنرنے کہا کہ ہم حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اس معاملہ کو درست انداز میں کنٹرول کیا، اس حوالے سے حکومت پاکستان کے اقدامات کوسراہتے ہیں۔

واقعے کا پس منظر

واضح رہے کہ 3 دسمبر 2021 کو سیالکوٹ میں اسپورٹس ویئر بنانے والی فیکٹری کے سری لنکن منیجرپریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر تشدد کرکے قتل کردیا تھا جبکہ لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے نذر آتش بھی کیا گیا۔

پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزمان سمیت تقریباً 150 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو واقعے کے وقت ویڈیوز اور سیلفیاں بنارہے تھے۔

مقتول کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

سری لنکن شہری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی سر پر ضرب لگنے سے دماغ متاثر ہونے کی وجہ سے ہوئی، یہ بھی تصدیق ہوئی کہ ان کے سر کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سری لنکن منیجر کے جسم کا 99 فیصد حصہ مکمل طور پر جل چکا تھا اور تشدد سے ان کے بازو، کولہے سمیت تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔

Tabool ads will show in this div