خلاء میں روس اور چین کی شراکت سے مغرب پریشان 

دونوں ممالک کی دنیا کامقابلہ کرنےکی مشترکہ کاوشیں 

چین اور روس نے سیٹلائٹ نیوی گیشن کے امریکی اور یورپی نظاموں کے مقابلے کے لیے باہم شراکت کا آغاز کر دیا ہے۔  

چین نے اس سال کے شروع میں روس کے نیویگیشن سسٹم 'گلوناس' کی اپنی سرزمین سے مانیٹرنگ کی اجازت دی اور جواب میں روس نے چین کے 'بائے دو' نظام کا اسٹیشن اپنے ہاں قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ 

روس کا گلوناس سسٹم سن 1970 میں قائم کیا گیا تھا جو فوجی مقاصد کےلیے استعمال ہوتا تھا جسے سرد جنگ کے بعد تجارتی حیثیت دے کر موسم، نیویگیشن، مواصلات اور تحقیق کے نظام کا درجہ دے دیا گیا۔ 

چین نے اپنا بائے دو نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم حال ہی میں قائم کیا ہے جس کا اعلان گزشتہ برس چینی صدر نے کیا تھا اور اسے اس قابل بنایا گیا ہے کہ امریکی جی پی ایس کے مقابل لا کر اس کے ذریعے مواصلات، ہنگامی طبی امداد، اور شہری علاقوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ 

وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق مغرب کے ساتھ روس کے بڑھتے اختلافات اور چین اور امریکا کے درمیان دو عالمی طاقتوں کے طور پر مسابقت، یقینی طور پر ماسکو اور بیجنگ کے درمیان تعاون میں اضافے کا باعث ہے۔ 

ماہرین کے مطابق سیٹلائٹس کو فوجی طاقت کے لیےاکیسویں صدی کا ایک اہم عنصر خیال کیا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ روس نے اپنے سیٹلائٹ کے مقابل ایک میزائل کا تجربہ کیا جس کے بارے میں امریکا نے کہا کہ اسکا ملبہ بین الا قوامی خلائی سٹیشن پر خلاء بازوں کے لیے خطرہ بنا۔ 

روس، چین اور امریکا ان متعدد ممالک میں شامل ہیں جو ہائپر سونک میزائل تیار کررہے ہیں۔ جو خلاء کی بالائی سطح تک آواز سے 5 گنا زیادہ رفتار سے پہنچتے ہیں۔ 

Tabool ads will show in this div